مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 36
(۳۶) کیا تھا اور جو Spontaneous Symmetry Breaking کے موضوع پر تھا۔اور ساٹھ کی دہائی میں اس کا ریسرچ ورک جو اس نے جان وارڈ John Ward کے ساتھ کیا تھا اور جو دیک انٹرا ایکشن پر تھا یہ تمام لا ریب بہت دور رس اثرات کا تحقیقاتی کام تھا۔اس بات پر میرا دل آزردہ ہے کہ امپیرئیل کالج آف لندن میں جب میں تھیوری گروپ کا بطور طالب علم ایک ممبر تھا۔اور اس گروپ میں نہ صرف عبد السلام شامل تھا۔بلکہ نام کیبل Kibble بھی تھا کسی ایک شخص نے بھی یہ تجویز نہ کیا کہ ویک انٹرایکشن کا موضوع میری مزید ریسرچ کے لئے نہایت دلچسپ موضوع ہو سکتا ہے۔في الواقعہ Spontaneous symmetry breaking کے بارہ میں مجھے اس وقت علم ہوا جب میں پی ایچ ڈی کر چکا تھا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نہ تو وائن برگ اور نہ ہی سلام ( اور نہ کسی اور نے) اس بات کی اہمیت کو اچھی طرح جانا کہ ان کے پیش کردہ ماڈل کی کیا اہمیت ہے۔تا آنکہ ہونٹ THoon ڈچ نوجوان سائینس دان نے اس کے ری نار مالائزیشن کا ثبوت ۱۹۷۲ میں پیش کیا۔اور تا آنکہ سرن۔یوروپین سینٹر فار نیوکلئیر ریسرچ (CERN) میں نیوٹرل کرنٹ دریافت ہوئی۔نو بل کمیٹی نے یقیناً گلا شو ، وائن برگ ، اور عبد السلام کو ۱۹۷۹ میں نوبل انعام کا مستحق جان کر دور اندیشی کا ثبوت دیا۔کیونکہ ڈبلیو اور زیڈ بوزانہ تجرباتی طور پر سرن میں ۱۹۸۲ تک دریافت نہ ہوئے تھے۔جو گیش پتی Pati اور سلام نے اسکے بعد تجویز کیا کہ سٹرانگ نیوکلئیر فورس بھی اس اتحاد کی تھیوری د یک نیوکلئر فورس اور ای ایم ایف) میں شاید شامل کی جاسکتی ہے۔گرینڈ یوٹی فیکیشن تھیوری کی پیش گوئی کے دو اہم اجزاء ہیں : میکنیک مونوپول اور پروٹان ڈی کے یہ دو فینا ما ایسے ہیں جن پر ابھی بھی بہت زبر دست اہم تھیور نیکل اور تجرباتی ریسرچ ہو رہی ہیں۔ماضی قریب میں یہ سلام ہی تھا جس نے اپنی ریسرچ میں عمر بھر کے رفیق جان سٹرا تھی Strathdee کے ساتھ مل کر سپر سپیس کا آئیڈیا پہلی بار پیش کیا۔یہ ایسی سپر پلیس ہے جس کے commuting اور anti-commuting coordinates ہیں اور جو اس وقت سپر سمیٹری کی ریسرچ میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔