مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 31
(۳۱) رہ کئے ہوئے وعدے کو ایفاء کر نیکا عہد کیا اس نے مجھے کہا کہ ہمیں پروفیسر سلام کے پایہ کے لوگوں سے نمائی کی اشد ضرورت ہے اور یہ جاننے پر کہ سلام کی صحت اب کس قدرنا ساز ہے اس نے صحت یابی کا ذاتی پیغام بھجوانے کے ساتھ پھولوں کا گلدستہ لندن ہسپتال بجھوانی کا فوری حکم صادر کر دیا۔کامسیٹس کی فائنڈنگ میٹنگ اسلام آباد میں ۴ اور ۵۔اکتوبر ۱۹۹۴ ء کو پوری شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔اور اسلام آباد میں کمیشن کا مستقل صدر مقام قائم ہوگیا مگر وائے افسوس کہ اس پلان کا خالق شدید علالت کے باعث اس جگہہ میٹنگ میں شرکت کرنے سے قاصر رہا۔جہاں اس کی tong cherished خواب آخر کار سچی ثابت ہو رہی تھی میں نے اس امر کے وقوع ہونے کا امکان مستقبل کے پر وہ پر دیکھ لیا تھا۔اور دونوں اداروں یعنی آئی سی ٹی پی اور ٹی ڈبلیو اے ایس کو تجویز کیا کہ سلام کا ایک پورٹریٹ پینٹ کروا کے کامسیٹس کی میٹنگ میں آراستہ کیا جائے۔میں نے مشہور زمانہ پاکستانی (مصور) مسٹر گل جی سے درخواست کی کہ وہ سلام کا ایک پور ٹریٹ بنا ئیں ( یہ مصور اس سے پہلے ڈی گال، جارج بش ، شاہ آف ایران ، علامہ اقبال اور راجیو گاندھی کے پورٹریٹ بنا چکے تھے مگر سلام اس قدر علیل تھا کہ پورٹریٹ کیلئے صحیح انداز میں بیٹھنے سے محروم تھا لہذا مسٹر گل جی نے خاکے بنائے جو میٹنگ میں زیبائش کیلئے رکھے گئے۔یوں اگر سلام وہاں میٹنگ میں خود حاضر نہیں ہو سکتا تھا تو کم از کم اس پورٹریٹ سیکیچز نے اس موقعہ کو خوشگوار اور پر لطف بنا دیا۔۱۹۹۵ ء کے شروع میں ان سات خاکوں میں سے جو گل جی نے بنائے تھے ایک خاکہ میں اسلام آباد سے ٹریسٹ لے کر گیا اور اب یہ آئی سی ٹی پی کے گیلی لیو گیلی لائی گیسٹ ہاؤس میں نمائش کے لئے دیوار پر آراستہ ہے۔ستمبر ۱۹۹۴ء میں پورٹریٹ میکنگ والی ملاقات کے بعد میری سلام سے ملاقات نومبر ۱۹۹۶ء یعنی اس کی رحلت تک بہت کم ہوئی۔اگر چہ میری اس سے بات چیت فون پر ایک یا دو دفعہ ہوئی۔فون پر میں صرف اس کی طرف سے پنجابی زبان میں صرف سر گوشی ہی سن سکا اس کی بیگم لوئیس کی فرمائش پر میں نے اردو شاعر غالب (۱۷۹۷۔۱۸۲۹) کی بعض غزلیں انگلش میں ترجمہ کیں جن کے ٹیپ کیسٹ سلام کو