مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 30 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 30

(۳۰) مختص کرنیکا حکم دے دیا جس میں امید تھی کہ پچاس ممالک کے سربراہان مملکت شرکت کریں گے۔نواز شریف سے ملاقات میں نے سلام کو فوراً آکسفورڈ فون کیا اور اسے خوش خبری سنائی۔وہ اس نوید سے بہت مسرور ہوا اور مجھے کہا کہ میں نواز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کروں اور اسے فرصت ملنے پر آئی سی ٹی پی وزٹ کرنے کی دعوت بھی دوں۔جون ۱۹۹۲ء میں جب وزیر اعظم پاکستان ریوڈی جو نیرو (برازیل) میں ارتھ سمٹ میں شمولیت کے بعد براستہ لندن پاکستان واپس جارہا تھا تو میں ڈاکٹر سلام کو آکسفورڈ سے کار پر ڈرائیو کر کے ڈور چسٹر ہوٹل میں مسٹر نواز شریف سے ملاقات کیلئے لایا۔نواز شریف نے سلام کو مخاطب ہو کر کہا:۔سر آپ کی وجہ سے پاکستان کو اتنی عزت ملی ہے اور اس وجہ سے همیں بھی عزت نصیب هوتی هے همیں کوئی حکم دیں اس کی تعمیل فوری طور پر هو گی اور اگر آپکی صحت یابی کیلئے کچھ کر سکتے ہیں جس سے عارضه میں کمی واقع ھو سکے تو از راہ کرم مجھے زاتی طور پر اس سے مطلع کریں میں اس کی تعمیل میں ذرا بھی گریز نه کروں گا۔یہ ساراسین بہت رقت آمیز تھا اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ پاکستان کے ارباب اختیار سلام کا دل میں کتنا احترام رکھتے ہیں کامسیٹس کے انعقاد کی قطعی تاریخ کا فیصلہ TWAS کی کویت میں ۱۹۹۲ میں ہونے والی کا نفرنس تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا لیکن ایک بار پھر پاکستان کی حکومت (اس بار شریف کی معزول ہوگئی قبل اس کے کہ تاسیسی اجلاس منعقد ہو سکتا۔چنانچہ اب ہمیں تمام تگ و دو دوبارہ شروع کرنا پڑی بینظیر بھٹو ایک بار پھر بر سر اقتدار آگئی میں نے تھرڈ ورلڈا کیڈیمی آف سائینسز TWAS کی دسویں سالگرہ کے موقعہ پر سلام سے ایک نیا مخط وزیر اعظم بینظیر کے نام لکھوایا میری ملاقات بے نظیر سے دسمبر ۱۹۹۳ء میں ہوئی اور اس نے اس سے پہلے