مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 335
(۳۳۵) fundamental lack of mirror symmetry۔(Memoirs of Royal Society by Dr Tom Kibble, FRS) ڈاکٹر سعید احمد درانی ( برمنگھم یو نیورسٹی) نے اس موقعہ پر آخری اجلاس کی صدارت کی اور درج ذیل واقعہ سنایا: جب سلام سے پنجابی زبان میں بات کی جاتی تھی تو وہ تر و تازہ دکھائی دینے لگتے تھے۔چنانچہ ایک بار میں آکسفورڈ ان کے گھر عیادت کیلئے گیا۔تو اطالوی بیگم کی موجودگی میں انگلش میں باتیں ہوتی رہیں۔ڈاکٹر سلام قوت گویائی سے معذور تھے۔مسز لوئیس سلام نے مجھے کہا کہ پنجابی میں بات کرو تو میں نے سلام سے پوچھا: اجے وی پڑھ لکھ رہے او ؟ سلام نے دھیمی آواز میں جواب دیا ہاں پڑھ ریاں ، ہاں پڑھ ریاں، ان کے چہرہ پر یہ الفاظ کہہ کر تازگی کے آثار نمایاں ہو گئے۔ملاقات کے دوران صرف یہی الفاظ تھے جو انہوں نے ادا کئے۔اسی طرح درانی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ پرویز ہود بھائی نے ڈاکٹر سلام کی علالت کے دوران اسلام آباد سے اپنا سرونٹ سلام کی نگہداشت کیلئے خاص بجھوایا تھا۔- ڈاکٹر درانی نے ایک اور واقعہ سنایا: ۱۹۷۴ء میں جب حکومت پاکستان نے احمدیوں کو نان مسلم قرار دے دیا تو سلام سے میری ملاقات لندن میں ہوئی۔میں نے پوچھا کہ سلام صاحب آپ نے استعفیٰ کیوں دیدیا۔تو ڈاکٹر سلام نے جوابد یا: غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔پھر ۱۹۸۸ء میں میں پاکستان ایک سائینس کانفرنس میں شرکت کیلئے گیا۔ملتان بھی لیکچر دینے گیا میں وائس چانسلر کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا تو وائس چانسلر نے کہا کہ جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں وہاں ڈاکٹر سلام کچھ عرصہ قبل تین گھنٹے بیٹھے رہے تھے۔میں نے پوچھا وہ کیوں؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے سلام کو لیکچر دینے کیلئے بلایا تھا۔مگر طلباء (جمیعت طلباء اسلامی کے احمقوں) نے لیکچر سننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم جلوس نکالیں گے۔A prophet is never recognized in his land۔۱۰۵ ---- عمران سعدی ( ڈاکٹر سلام کے نواسہ) نے بتایا: ایک بار میں اپنے ابا کے ساتھ کار میں نانا جان