مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 334
(۳۳۴) نئے سائنسی انکشافات اور تھیوریز سے آگاہ رکھنے کیلئے ہر سال لیکچر منعقد کئے جائیں مگر سلام اس تجویز سے متفق نہ ہوئے۔اس روز دونوں حضرات اردن کا مشہور آثار قدیمہ کا شہر PETRA دیکھنے گئے۔سلام اس کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے جب دونوں واپس ہوٹل پہنچے تو سلام نے بدر ان سے کہا۔got it ابدران نے عرض کیا ?Prof۔Salam what did you get سلام نے جوابد یا کل جو تجویز تم نے دی تھی اس کا حل مجھے مل گیا ہے اور وہ یہ کہ اردن میں Petra School of Physics قائم کیا جائے پیٹرا شہر کے نام میں بہت اثر یکشن ہے سائینسدان خود بخود آئیں گے۔سکول قائم ہو گیا اور یہ اب بھی چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۱۰۲ سلام میموریل کے موقعہ پر ڈاکٹر منیر احمد خاں ( سابق چیر مین PAEC) نے بتایا: سلام سے میری ٹریسٹ میں آخری ملاقات ۱۹۹۲ ء میں ہوئی۔صبح کے وقت اس نے میرے لئے ناشتہ تیار کیا اور ہم کچن میں بیٹھ گئے اور سلام نے خوب دل کھول کر دل کی باتیں بیان کیں۔اس نے مجھے بتایا زندگی کے اس موڑ پر وہ اب بیالوجی کی فیلڈ میں ریسرچ کر رہا ہے ، وہ مالیکیول کے سٹرکچر کو سمجھنے کی کوشش میں ہے۔اس کا ارادہ تھا کہ وہ میٹھے میٹیکل فزکس کے اصولوں کو اس موضوع پر لاگو کرے۔دیکھنا یہ ہے کہ مالیکیول کے اندر کیا عمل کام کرتا ہے۔جدید ریسرچ کا یہ کام جو سلام نے شروع کیا وہ علالت کی شدت کے باعث مکمل نہ کر سکا، مجھے امید ہے مستقبل میں کوئی دوسرا ضرور کرے گا۔خانصاحب نے یہ بھی بتلایا کہ سلام سے ان کی آخری ملاقات آکسفورڈ میں وفات سے تین ماہ قبل ہوئی تھی۔(یادر ہے کہ سلام اور منیر خان کی دوستی کا عرصہ ۵۵ سال پر محیط تھا، دونوں نے گورنمنٹ کالج کی یونین کا الیکشن لڑا تھا، مگر سلام جیت گئے تھے ) ڈاکٹر نام کبل ( امپیرئیل کالج) نے ڈاکٹر سلام کی آخری ریسرچ کو یوں بیان کیا ہے۔ہر ایک کو امید تھی کہ ان کو اس موضوع پر شاید دوسرا نوبل انعام بھی ملے: One of the unresolved puzzles of biology is the origin of chirality: why it is that most biological molecules appear in only one of two mirror-image forms۔Salam wondered whether this problem could be related to the weak interactions, which exhibit a