مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 333 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 333

(۳۳۳) سلام سے ملاقات کی کسی نے ان کو باتیں کرتے دیکھ لیا تو بعد میں ان سے کہا Don't go near Salam, he will always find something for you to do۔ڈاکٹر محمد حسن (یونیورسٹی آف خرطوم، جنرل سیکرٹری TWAS) نے سلام میموریل منعقدہ ٹریسٹ کے موقعہ پر اپنی تقریر دلپذیر میں بتایا: تھرڈ ورلڈ اکیڈیمی کے بانی ممبران میں ۴۱ چوٹی کے سائینسدان شامل تھے جن کا تعلق تیسری دنیا یا پسماندہ ممالک سے تھا، ہر وہ نوبل انعام یافتہ جس کا تعلق پسماندہ ممالک سے تھا وہ بھی اس میں شامل تھا، اکیڈیمی کے افتتاح کیلئے ۱۹۸۳ء میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکر ٹری کو مدعو کیا گیا تھا۔سلام نے ان کی آمد پر پورے دن کا پروگرام تیار کر لیا تھا۔اٹلی کی حکومت نے اکیڈیمی کیلئے ڈیڑھ ملین ڈالر وئے تھے۔افتتاح سے چند روز قبل اٹلی کے وزیر خارجہ کا سلام کو فون آیا کہ ہمیں روم میں جنرل سیکرٹری کی اشد ضرورت ہے سلام نے افسوس کا اظہار کیا کہ میں نے تو پورے دن کا پروگرام طے کیا ہوا ہے۔وزیر موصوف مصر کہ نہیں وہ روم ضرور آئیں۔خیر سلام اس شرط پر رضامند ہو گئے اگر وزیر خارجہ اکیڈیمی کے لئے گرانٹ دگنی کر دیں، چنانچہ گرانٹ دگنی کر دی گئی۔سلام میموریل کے موقعہ پر یرموک یو نیورسٹی (اردن) کے پروفیسر عدنان بدران نے مندرجہ ذیل واقعہ سنایا: ۱۹۸۰ء میں میں نے سلام کو دعوت دی کہ وہ یرموک یونیورسٹی آئیں اور گر یجویشن کر نیوالے طلباء کو ڈگریاں دیں۔اس موقعہ پر ان کو بھی آنریری ڈگری دی گئی اور اس کنونشن میں شاہ حسین بھی موجود تھے۔سلام نے اس موقعہ پر دو گھنٹہ لمبی تقریر کی جو طلباء نے ہمہ گوش ہو کر سنی۔اردن کے طلباء کیلئے یہ نادر موقعہ تھا کہ ان کے درمیان ایک مسلمان نوبل انعام یافتہ موجود تھا۔اگلے روز ڈاکٹر بدران نے سلام کے سامنے تجویز پیش کی کہ اردن کے سائینس دانوں کو نئے