مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 330
(۳۳۰)۔۔۔۔۔۔۹۲ نومبر ۱۹۹۷ کو ٹریسٹ میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویتنام کے پروفیسر دین ہیو VAN HIEU نے کہا: ویت نام میں سائینس کی حمایت میں جو کام عبد السلام نے کیا اس کی قدر شناسی کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہنوئی شہر میں سلام سینٹر فار تھیور ٹیکل فزکس قائم کیا جائے۔یہ امر لچسپی کا باعث ہے کہ ری پبلک آف بنین (افریقہ ) کے شہر COTONOU میں سلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پہلے ہی کام کر رہا ہے اس کے ڈائریکٹر Prof Jean Pierre Ezin ہیں۔بنین کے ملک نے تو ڈاکٹر عبدالسلام کی سائینس کیلئے سنہری خدمات کے اعتراف میں نومبر ۲۰۰۱ میں ایک ڈاک کا ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔عورتوں میں سائینس کی تعلیم کو رواج دینے کیلئے ڈاکٹر عبدالسلام نے ایک آرگنا ئز بیشن قائم کی تھی جس کا نام Third World Organization for Women in Science ہے، اس کا صدر مقام قاہرہ (مصر) میں ہے۔اس کی موجودہ صدر سوازی لینڈ کی شہری ہیں جنہوں نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے پی ایچ ڈی کیا تھا۔۔۔۔۔۹۴ ۲۳ ستمبر ۲۰۰۲ ء کی وہ شام میرے لئے مسرتوں کا باعث ہوئی جب پر وفیسر ڈاکٹر ایچ ایس ورک، گرونانک دیو یو نیورسٹی عاجز کے غریب خانہ پر فروکش ہوئے۔ان کے اور میرے درمیان قدر مشترک یہ تھی کہ ایک تو وہ میرے ورک بھائی تھے۔دوسرے ان کا تعلق ڈاکٹر سلام کے ساتھ بہت قریبی رہا تھا۔ڈاکٹر ورک اٹلی میں آئی سی ٹی پی میں قیام کر چکے تھے۔نیز ڈاکٹر سلام نے جب ۱۹۸۱ء میں گرونانک دیو یونیورسٹی میں ایڈریس دیا تو اس کا انتظام بھی انہوں نے کیا تھا۔پھر جب ڈاکٹر سلام قادیان کے جلسہ سالانہ میں شرکت کیلئے گئے تو ڈاکٹر ورک ان کے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر ورک آئی سی ٹی پی کے سینیر ایسوسی ایٹ ہونے کے ساتھ ڈاکٹر سلام کی کتاب deals & Realities کے گورکھی میں مترجم بھی ہیں۔یہ