مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 326 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 326

(۳۲۶) ضوع پر کام کرنا چاہئے وہ تو یہ ہونا چاہئے۔ڈاکٹر فہیم حسین نے بیان کیا: ۸۳ امپرئیل کالج لندن سے ۱۹۶۸ء میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد میں پاکستان واپس لوٹ آیا، میرے ساتھ یوروپ کے ممالک سے دس اور پارٹیکل فزے سسٹ بھی واپس آگئے اور ہم نے ایک ریسرچ گروپ بنا لیا۔ہمیں آئی سی ٹی پی نے ملک کے اندر رہ کر ریسرچ کرنے کی ہر ممکن مدد فراہم کی۔یہی وہ حالات تھے جن کا سامنا ڈاکٹر سلام کو پندرہ سال قبل لا ہور میں کرنا پڑا تھا ، خدا کا شکر ہے ہمیں ان حالات سے دوچار نہ ہونا پڑا ور نہ ہم بھی غیر ممالک میں چلے جاتے۔اسلام آباد میں ہیں سال کے قیام کے دوران بطور فرے سسٹ میں ڈاکٹر سلام کی کوششوں سے زندہ رہا۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ٹام کبل Tom Kibble ایف آرایس (امپرئیل کالج ) نے بیان کیا: (۱۹۶۵) میں جب ہندوستان اور پاکستان پر کشمیر کے تنازعہ پر جنگ کے گھمبیر بادل چھائے ہوئے تھے۔تو ڈاکٹر عبد السلام اور ڈاکٹر ہومی بھابھا ( فاونڈر ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ، ممبئی ) نے صدر ایوب اور جواہر لال نہرو کے درمیان مصالحت کی کوشش کی مگر یہ کوشش بار آور نہ ہوئی۔Obituary, The Independent, UK, Nov 23, 1996 ڈاکٹر عبد السلام کے معتمد اور رفیق خاص ڈاکٹر جو گیش پتی ، یو نیورسٹی آف میری لینڈ نے بیان During our collaboration, Salam always reacted to our occasional disagreements ::✓✓ with a good-natured spirit۔If he were greately excited about an idea that I did not like, he would impatiently ask, "My dear sir, what do your want? Blood? | would reply, "No Professor Salam, 1 would like something better۔" Whether I was right or wrong, he never took it ill۔( Obituary Physics Today, August 1997, page 74,75)۔