مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 314
(۳۱۴) لیکچر کو سننے کے بعد میں نے سائینسدان بنے کا فیصلہ کیا اور نیوکلئر فزکس کی فیلڈ میں چلی گئی۔۵۴ ڈاکٹر عبد السلام کے ایک شاگرد کا نام Yuval Neeman تھا۔وہ اسرائیل کے لندن میں سفارت خانے میں کرنل کے عہدہ پر فائز تھے۔ان کو فزکس کے مضمون سے بھی لگاؤ تھا۔ایک روز وہ ڈاکٹر سلام کے پاس امپرئیل کالج لندن آئے اور اپنی تھیوریز کا ذکر کیا۔ڈاکٹر صاحب نے اس کو اپنا سٹوڈنٹ بنالیا۔نی مین نے پارٹیکل فزکس میں ریسرچ کا کام شروع کر دیا اور ۱۹۶۲ء میں ڈاکٹر سلام کے ماتحت کام کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔انہوں نے جو زبر دست تھیوری پیش کی اس کا نام (3)SU ہے۔انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام Particle Hunters ہے۔اس واقعہ سے ڈاکٹر صاحب کی دور بین نگاہوں کا علم ہوتا ہے ، کوئی اور ہوتا تو کہتا کہ یہ ملٹری کا بندہ فزکس میں کیوں ٹانگ اڑا رہا ہے مگر نہیں گوہر شناس نے گوہر کو پہچان لیا تھا۔سلام کی نگاہ کرشمہ ساز نے اس نوجوان ملٹری اتاشی کی شخصیت کو تاب دار بنا دیا۔ڈاکٹر سلام کے اور شاگرد کا نام Ray Streator ہے۔۵۹۔۱۹۵۷ء کے سالوں جب وہ لندن | میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو ڈاکٹر سلام اس کے سپر وائزر تھے۔اس کی ریسرچ فیلڈ کا نام axiomatic quantum field theory تھا۔ڈاکٹر صاحب نے کوشش کر کے اس کو پارٹیکل فزکس میں ایک پرابلم تلاش کر کے دیا جس کا عنوان double dispersion relations تھا۔مگر اسے یہ موضوع اچھا نہ لگا، کچھ روز کے بعد ڈاکٹر سلام نے اس سے پوچھا کہ تحقیق کا کام کیسے چل رہا ہے؟ اس نے بددلی کا اظہار کیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا تم اس کے پروف کو غلط ثابت کر سکتے ہو۔اگر نہیں کرنا تو مجھے بتلا دو۔چنانچہ یہ پرابلم انہوں نے کسی اور شاگرد کو دے دی۔اس کے بعد ڈاکٹر سلام نے اس کو ایک اور پرابلم دی جس کا نام Gram determinant تھا۔اس کے بارہ میں اس شاگرد کچھ علم نہ تھا۔کچھ روز یونہی ضائع ہو گئے تو اس نے ڈاکٹر سلام سے کہا کہ وہ اس کو