مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 307
زکر یا ورک نے بیان کیا: (۳۰۷) انیس سو اسی کی دہائی کے شروع میں پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کا اخبارات میں بہت چرچا تھا اور صحافی چہ میگوئیاں کیا کرتے تھے کہ اس ضمن میں پاکستان کی کون مدد کر رہا ہے میں نے نیو یارک ٹائمنر میں اور انڈیا ابراڈ میں بھی مضامین اس ضمن میں پڑھے تھے جن میں یہ ذکر کیا گیا تھا کہ عبد السلام ضرور پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔چنانچہ میں نے آپ سے استفسار کیا کہ مغربی میڈیا میں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ پاکستان کی نیوکلئیر بمب بنانے میں مدد کر رہے ہیں؟ بلکہ بعض ایک نے تو آپ کو فادر آف نیوکلئیر پروگرام بھی لکھا ہے۔تو آپ مسکرا دئے۔اور ایک منجھے ہوئے ڈپلومیٹ کی طرح جواب دیا: It's a double edge sword ایک رات کیلئے فیلڈ مارشل عبد السلام؟ میں ستمبر ۱۹۵۶ء میں سی اسٹیل کا نفرنس Seattle Conference میں شمولیت کے لئے امریکہ کی ریاست واشنگٹن گیا، جہاں پروفیسر یانگ اور پروفیسر لی Yang & Lee نے لیفٹ رائٹ سیمٹری کے مقدس اصول کو و یک نیوکلئر فورس میں غلط ہونے کے امکانات پر شبہ کا اظہار کیا تھا۔اس کے بعد میں امریکن ائر فورس کے ٹرانسپورٹ جہاز MATS پر لندن واپس آرہا تھا۔کیونکہ اس زمانے میں ہوائی سفر کی سہولتیں اتنی اچھی نہیں تھیں جتنی اب آرام دہ ہیں۔جہاز پر سوار امریکن فوجیوں نے ازراہ تفنن مجھے ایک رات کے لئے برگیڈئیر یا فیلڈ مارشل کا عہدہ دے دیا تھا۔مجھے ٹھیک طرح یاد نہیں کون سا؟ جہاز کا سفر بہت تکلیف دہ تھا کیونکہ فوجیوں کے بچے ساری رات روتے رہے۔یعنی فوجی نہیں بلکہ ان کے بچے ، اور میں اس خیال میں مگن کہ ویک انٹرایکشن میں لیفٹ رائٹ سیمٹری کیوں ٹوٹے گی؟ Ideals & Realities, 1987, page 280