مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 306
(۳۰۶) نے جنرل صاحب سے عرض کیا کہ آیت تو مکمل طور پر درج ہے تحریف کہاں ہوئی ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ نے آیت کے معنوں میں تحریف کی ہے اور بجائے نبیوں کو ختم کرنے والے کے نبیوں کی مہر ترجمہ کیا ہے اور یہ نا قابل برداشت ہے۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے جنرل صاحب سے عرض کیا کہ ختم کا لفظ جو یہاں استعمال ہوا ہے وہ پنجابی زبان کا لفظ نہیں ہے بلکہ عربی زبان کا ہے اور اس کے معنی عربی میں مہر کے ہیں لیکن میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کیا آپ کے پاس کسی اور عالم قرآن کا ترجمہ ہے؟ وہ اٹھے اور علامہ محمد اسد کا انگریزی ترجمہ قرآن اٹھا لائے جو مکہ معظمہ سے شائع ہوا تھا میں نے قرآن مجید کھولا آیت خاتم النبین نکالی تو وہاں بھی ترجمہ seal of the prophets لکھا تھا۔جنرل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا میں نے عرض کیا علامہ اسد تو احمدی نہ تھے پھر ان کا ترجمہ سعودی حکومت کا شائع کردہ ہے کیا انہیں بھی آپ تحریف کا مجرم قرار دیں گے؟ اس پر جرنیل صاحب کہنے لگے بھئی میں تو ان پڑھ جرنیل ہوں۔جو علماء نے مجھے کہا میں نے اسے مان لیا۔سلام خدا کی قسم میں تمھیں اپنے سے بھتر مسلمان سمجھتا ھوں لیکن کیا کروں میں علماء کے سامنے مجبور ھوں۔۳۷ پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس بھٹی (یونیورسٹی آف ٹیکساس) نے بیان کیا: bhati@panam۔edu ۱۹۸۲ء میں عاجز پروفیسر عبد السلام کا اٹلی میں شاگر د تھا۔امریکہ میں داخلہ حاصل کرنے کیلئے انہوں نے کئی سفارشی خطوط میری خاطر بھجوائے۔آخر کار مجھے نوٹرے ڈیم یو نیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔۱۹۸۷ء میں عاجز نے اٹامک فزکس میں ڈاکٹریٹ مکمل کر لی۔میں نے ان کو اس امر کی اطلاع دی تو وہ بہت خوش ہوئے۔اسکے بعد میں نے ان کو خط لکھا کہ اب میری رہ نمائی فرمائیں کہ مزید کیا کروں؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ امریکہ میں ہی کسی جگہہ ملازمت حاصل کرلوں ، ۱۹۸۹ء میں مجھے یو نیورسٹی آف ٹیکساس میں ملازمت مل گئی ، ہم نے ان کو یہاں مدعو کیا وہ آئے سب لوگ ان کو مل کر خوش ہوئے۔☐