مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 301
(۳۰۱) ایک دفعہ چوہدری صاحب موصوف کمر درد کی وجہ سے صاحب فراش ہو گئے اور وانڈ زورتھ کے ہسپتال میں داخل تھے۔ڈاکٹر سلام انکی عیادت کیلئے ہسپتال گئے۔ساتھ میں وہ کتاب شمائل ترمذی بھی لیتے گئے جو امام ترمذی نے لکھی تھی اور جس میں رسول مقبول میے کی روزانہ زندگی ، آپ کے خدوخال، آپ کیا پہنتے تھے۔نیز آپ کی روزانہ کی مصروفیات، عائلی زندگی اور پبلک لائف کو بیان کیا گیا ہے۔ڈاکٹر سلام کا خیال تھا کہ اللہ نے چاہا تو وہ ایک روز اس کتاب کا انگلش میں ترجمہ کریں گے۔یہ کتاب وہ چوہدری صاحب کے پاس چھوڑ آئے اور خود ملاقات کے بعد ٹریسٹ روانہ ہو گئے۔چند ماہ کے بعد ڈاکٹر صاحب واپس لندن آئے اور چوہدری صاحب سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پر گئے۔چوہدری صاحب نے شمائل ترمذی کا انگلش ترجمہ ان کو پیش کیا جو کہ چھپ بھی چکا تھا اس پر انہوں نے دستخط بھی کر دئے تھے۔ڈاکٹر سلام نے احتجاج کیا کہ یہ ترجمہ تو میں کرنا چاہتا تھا تا کہ میرا بھی غفران ہو سکے۔چوہدری صاحب نے فرمایا مجھے لگتا تھا کہ تمہیں مستقبل قریب میں شاید اتنا وقت نہ ملے تو میں نے سوچا کہ میں جو ہسپتال میں بستر پر پڑا ہوں میرے وقت کا صحیح مصرف یہی ہوگا کہ یہ ترجمہ کر ڈالوں۔دعا کی قبولیت پر یقین کامل: Personally I do have faith in the efficacy of prayer at times of distress۔I could elaborate on this intensely personal thought but I shall forbear to do this۔My greatest desire before I die is that Allah in His Bounty may grant me the mystical vision - so that I too can partake first-hand of what was vouchsafed to the Seers in the past۔(Ideals & Realities, P296) ۲۷ روز نامه مشرق لاہور۔۱۹ اکتوبر ۱۹۷۹ ڈاکٹر صاحب کی بیگم (امتہ الحفیظ صاحبہ) سے کسی نے ایک بار پوچھا کہ آپ کے شوہر سائینس