مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 300 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 300

(۳۰۰) کی کوئی ضرورت نہیں۔90 Unification of Fundamental Forces, A۔Salam, page 35, 1990- ۲۳ ڈاکٹر سلام کی خواہش تھی کہ ان کی بڑی بیٹی عزیزہ بھی ان کی طرح فرے سسٹ بنے۔چنانچہ اس نے سکول میں فزکس کے مضمون کا مطالعہ کیا، ۱۹۷۳ء میں جب ڈاکٹر صاحب نے پروٹان ڈی کے کی تھیوری وضع کی تو انہوں نے اس کو بتلایا کہ پروٹان جو ہے وہ unstable ہے۔چنانچہ وہ اپنے اے لیول کے ٹیچر کے پاس گئی اور اس کو بتلایا کہ میرے والد نے یہ کہا ہے۔ٹیچر نے اس کو کہا: My dear girl, whatever nonsense your father teaches you at home, don't put it in the exam paper, or you will fail۔بیٹی نے امتحان میں وہ کچھ لکھ دیا جو باپ نے سمجھایا تھا اور نتیجہ یہ کہ وہ امتحان میں فیل ہو گئی۔اس کے بعد ان کی بیٹی نے فزکس کو چھوڑ کر لٹریچر کا مضمون لے لیا۔۱۹۶۷ء میں ڈاکٹر سلام اور ڈاکٹر وائن برگ الگ الگ اس تھیوری پر ریسرچ کا کام کر رہے تھے جس کی بناء پر ان کو نوبل انعام دیا گیا۔اس تھیوری کو وضع کرنے میں بہت سے آئیڈیاز سے کام لیا گیا تھا ان میں سے ایک آئیڈیا کا نام spontaneously breaking symmetry تھا۔سوال یہ تھا کہ سیمٹری ٹوٹتی کیسے ہے؟ اس کو سمجھانے کیلئے ڈاکٹر سلام درج ذیل مثال دیتے تھے: فرض کریں کہ آپ نے شام کے کھانے پر بارہ افراد کو بلایا ہے۔وہ ایک بڑے گول میز کے گرد بیٹھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔اگر آپ کو کسی قاعدہ کا علم نہیں تو آپ کسی بھی کرسی پر بیٹھ سکتے ہیں اور پلیٹ کو چاہے دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے لے لیں۔یہ سیمٹری کی حالت کہلاتی ہے۔لیکن جو نبی ان مہمانوں میں سے کسی نے پہل کر کے پلیٹ اٹھالی تو پھر باقی کے تمام مہمانوں کو اسی طرف سے پلیٹیں اٹھانا ہوں گی یوں لیفٹ اور رائیٹ کی سیمٹری spontaneously broken ہوگئی۔۲۵ آنر یہل چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کے عشق رسول ﷺ کا ایک واقعہ ڈاکٹر سلام نے یہ سنایا کہ