مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 282
(۲۸۳) نزدیک عربی زبان کو اس سے زیادہ خراج تحسین نہیں دیا جا سکتا۔اسلامی سائینس کے ان اعلیٰ پہلوؤں پر خاص طور پر اس کے ہائی لیول کی تخلیق کے کام کا سپین اور دوسرے ممالک میں میں نے طائرانہ ذکر کیا ہے۔سپین کا خاص مقام یہ ہے کہ یہاں سے بارہویں اور تیر ہویں صدی میں تمام سائینسی علوم کے ذخیرہ کو عربی زبان سے لاطینی زبان میں منتقل کیا گیا۔نیز مسلمان خلفاء کے دربار میں بردباری و تحمل کا اظہار جو یہودی اور عیسائی عالموں کیلئے کیا گیا وہ بھی قابل ذکر ہے۔کیا سپین ایک بار پھر یوروپین ، لاطینی امریکہ اور عرب مسلمان سائینس کے کلچرز کے درمیان ایک مقام اتصال کے طور پر کام کر سکتا ہے؟ پچھلے سال مجھے سپین کے بادشاہ کنگ کارلوس King Carlos کے ساتھ اس تجویز پر گفتگو کا موقعہ ملا تھا جس میں سپین کے بعض طبیعات دانوں نے ایک انرجی سینٹر کے قیام کا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں تین زبانوں میں کام ہو گا سپینش ، انگلش، اور عربی۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس سینٹر میں کس کو الٹی کی سائینس میں ریسرچ ہوگی؟ ڈاکٹر صاحب نے یہ تقریر پید رو آباد ( جو قرطبہ سے کوئی ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے) میں مسجد بشارت کے افتتاح کی تقریب کے موقعہ پرفرمائی تھی۔تقریر کے نہروع میں تشہد و تعوذ اور انگلش میں نوٹ آپ کے خوشخط ہینڈ رائیٹنگ میں ہے