مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 274
(۲۷۴) انگریز طالبعلم چار چار قسم کی سیاہیوں والا قلم ، لکیریں ڈالنے کیلئے رولر استعمال کر رہا ہوگا۔اس کی نوٹس لینے والی کا پیاں ایسی احتیاط سے لکھی گئی ہوں گی جیسے پروفیشنل خوش نویس لکھ رہا ہو۔میرے ساتھ والے طالبعلم براہ راست سکولوں سے آئے تھے عمر میں مجھ سے گو سب کم تھے لیکن ان کی خود اعتمادیوں اور ان کی امنگوں کا یہ عالم تھا جسے تحصیل کرنے کیلئے مجھے کم از کم دو سال لگ گئے۔وہ ایسے ماحول سے آئے تھے جن میں ان کے سکولوں کا استاد اچھے پڑھنے والے بچوں کو یہ سمجھا کر کیمبرج روانہ کرتا کہ عزیز و۔تم ایسی قوم کے فرزند ہو جس میں نیوٹن پیدا ہوا تھا۔سائینس اور یاضی کا علم تمہاری میراث ہے اگر تم چاہو تو تم بھی نیوٹن بن سکتے ہو۔کسے معلوم تھا کہ آپ مسلمانوں کے نیوٹن بنیں گے۔مؤلف ) کیمبرج میں ڈسپلن کا انداز بھی میرے لئے نیا تھا کیمبرج میں بی اے کا امتحان آپ زندگی میں صرف ایک بار دے سکتے ہیں آپ خدانخواستہ فیل ہو جائیں تو پھر دوبارہ امتحان دینا ممکن نہیں ہوتا۔ہوٹل کے ڈسپلن کا یہ عالم تھا کہ دس بجے رات تک آپ بلا اجازت کالج سے باہر رہ سکتے ہیں۔دس سے بارہ بجے تک ایک پینی جرمانہ۔لیکن اگر آپ بارہ بجے رات کے بعد واپس آئے تو سات دن کی gating ہوگی اور اگر سال کے دوران تین بار ایسا ہوا تو آپ کو کیمبرج سے نکال دیا جائیگا۔کیمبرج میں ہر طالب علم بالغ العمر تصور کیا جاتا ہے۔اپنے تمام کاموں میں وہ مکمل طور پر ذمہ دار گنا جاتا ہے۔اس سے بیجا تعرض نہیں ہوتا لیکن اس کے ساتھ سزائیں بھی سخت قسم کی ہیں جنہیں ایسے طالبعلم مردانہ وار قبول کرتے ہیں۔کیمبرج کا ہر طالبعلم ہاتھ سے کام کرنے کا عادی ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے پہلے روز جب میں سینٹ جانز کالج پہنچا، میں تمہیں سیر کا بکس ریلوے سٹیشن سے ٹیکسی پر تو لے آیا لیکن جب کالج پہنچ کر میں نے پورٹر کو بلایا اور کہا یہ میرا بکس ہے اس نے کہا وہ وھیل بیرو wheel barrow ہے آپ اسے لیجئے اور باقی لوگوں کی طرح اپنے کمرے میں لے جائیں۔ان پرانے قصوں کی باز خوانی محض ذاتی حظ لینے کیلئے نہیں کر رہا۔میں تعلیم اور علم نوازی کے موضوع پر چند گزارشات کرنا چاہتا ہوں اور اس سلسلہ میں یہ داستانیں میرے مضمون کا حصہ ہیں۔(اس مضمون کا مکمل انگریزی ترجمہ مولف کتاب نے کیا جو جون ۱۹۹۰ کے ریویو آف ریلجز میں شائع ہوا تھا، یہ مضمون انٹر نیٹ پر بھی پڑھا جا سکتا ہے http://www۔alislam۔org/library/links/00000126۔html) (ماخوذ تهذيب الاخلاق - عبد السلام نمبر۔مارچ ۱۹۹۷)