مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 273 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 273

(۲۷۳) اس وقت مجھے یہ خصوصی سلوک بہت ناگوار گزرا لیکن اب غور کرتا ہوں تو یہ سراسر شفقت تھی ، نوازش تھی کرم تھا اس شاک تھراپی کا اثر یہ ہوا کہ کم از کم انگریزی میں خوب صورت لیکن بے محل الفاظ استعمال کرنے کی عادت چھوٹ گئی۔میری تعلیم جہاں اسا تذہ کی مرہون منت تھی۔اس سے زیادہ قبیلہ والد صاحب کی نگاہ اور ان کی دعاؤں کی مرہون منت تھی۔اس زمانے میں میٹرک کا امتحان صوبہ پنجاب کے لئے ایک قسم کا اکھاڑہ ہوا کرتا تھا، جس میں مختلف اسکولوں کے پہلوان دنگل کیا کرتے تھے۔خاص طور پر سناتن دھرم اور آریہ سکولوں کے طلباء اس دنگل کے نامی پہلوان تصور کئے جاتے تھے۔مجھے یاد ہے جس دن میٹرک کا نتیجہ نکلا میں مگھیانہ کچہری میں قبلہ والد صاحب کے دفتر میں بیٹھا تھا رزلٹ کی کاپی دو پہر کے وقت لا ہور سے مکھیا نہ سٹیشن پہنچی۔والد صاحب نے آدمی وہاں بیٹھا رکھا تھا کا پی ان کے دفتر میں لائی گئی ساتھ ہی لاہور سے مبارکبادوں کے تار آنے لگے۔جس طرح میں نے عرض کیا اس زمانے میں میٹرک کا رزلٹ گویا ایک نیشنل ایونٹ event کی حیثیت رکھتا تھا۔اور اسکی وجہ ہندو کمیونٹی کی علم دوستی تھی۔مجھے یاد ہے میں دو بجے دوپہر سائیکل پر سوار ہو کر مگھیانہ سے جھنگ شہر واپس لوٹا۔رزلٹ کی خبر جھنگ شہر میں میرے پہنچنے سے قبل پہنچ چکی تھی۔چوکی پولیس والے گیٹ سے مجھے بلند دروازے کی طرف جانا تھا۔مجھے ابھی تک یاد ہے وہ دکان دار جو عموما مئی کی اس تیز دھوپ کے وقت اپنے کھاٹوں پر دکانوں کے چھپروں کے سائے تلے سوئے ہوتے تھے جس وقت میں سائیکل پر وہاں سے گزرا وہ سب تعظیماً اپنی دوکانوں میں میرے آنے کے انتظار میں قطاروں میں کھڑے تھے ، ان کی اس علم نوازی کا نقشہ ہمیشہ میرے دل ثبت پر رہا ہے۔لا ہور سے کیمبرج میں جھنگ سے گورنمنٹ کالج لاہور اور وہاں سے کیمبرج پہنچا۔کیمبرج میں انگریز طلباء کی علم نوازی کا ایک نیا مشاہدہ ہوا۔کیمبرج کے کلاس روم میں طالبعلم اس انداز سے بیٹھتے ہیں جس طرح نماز سے پہلے نمازی مسجد میں آکر بیٹھتے ہوں۔لیکچرار کے آنے سے پیشتر ایک سناٹا ہوتا ہے۔لیکچر کے دوران