مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 272
(۲۷۲) ڈاکٹر عبد السلام کی تعلیم ان کے اپنے الفاظ میں کچھ میں جھنگ کالج میں ۱۹۳۸ء میں ۱۲ برس کی عمر میں داخل ہوا۔چار سال یہاں گزارے اس زمانے میں یہ کالج انٹر میڈیٹ کالج تھا، نویں دسویں، فرسٹ ائیر ، اور سیکنڈ ائیر کی کلاسیں تھیں۔کثرت ہندو طلباء کی تھی میری خوش قسمتی کہ کالج میں مجھے نہایت قابل اور شفیق استاد ملے۔پرنسپل حکیم محمد حسین گجرات کے رہنے والے تھے، انگریزی کے استاد شیخ اعجاز احمد ،عربی کے شفیق استاد صوفی ضیاء الحق ، فارسی کے استاد خواجہ معراج الدین حساب اور سائینس کے مضمون اس زمانے میں ہندؤں اور سکھوں کی ملکیت سمجھے جاتے تھے۔حساب کے لالہ بدری ناتھ ، اور لالہ رام لال، فزکس کے استاد لالہ ہنس راج اور کیمسٹری کے استاد لالہ نوبت رائے تھے۔میرے تعلیمی کیرئیر کی بنیاد اسی کالج میں رکھی گئی میں سمجھتا ہوں کہ میری بعد کی حقیر کا میا بیاں اس کالج کی تعلیم اور میرے جھنگ کے اساتذہ کی شفقت کی مرہون منت ہیں۔میرا ایمان ہے کہ استاد کی شفقت اور اس کی توجہ کی نگاہ شاگرد کو آسمان تک پہنچا دیتی ہے اس توجہ کی ایک مثال عرض کروں فرسٹ ائیر کے دوران میں نے انگریزی کے بہت سے نئے اور خوبصورت الفاظ سیکھے۔پسند آئے اور میں اپنی تحریر میں ان مشکل اور بعض اوقات متروک الفاظ کا بے تکلف اور بے محل استعمال کرنے لگا۔استاد گرامی جناب شیخ اعجاز احمد صاحب نے کئی بارٹو کا، تنبیہ فرمائی۔میری طرف سے تعاون نہ ہو ا سہ ماہی کا امتحان آیا شیخ صاحب نے پر چہ مارک فرمایا ، ہر متروک اور بے محل لفظ کے استعمال پر فی لفظ پانچ نمبر کے حساب سے نمبر کاٹ لئے ، ظاہر ہے میر اٹوٹل صفر کے قریب پہنچ گیا۔پھر اسی پر اکتفا نہ کی۔کلاس میں میرا پر چہ لائے اور ہر ہر غلط لفظ کا تذکرہ ساری کلاس کو سنایا۔اس کے بعد پر چہ میرے حوالے کیا اس پر تحریر تھا: ترسم نہ رسی کعبہ اے اعرابی کیس راه که میروی تبرکستان است