مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 264 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 264

(۲۶۴) زیادہ ہوتی گئی۔۱۹۸۳ء میں جینیوا کی تجربہ گاہ سرن میں دو ٹیموں نے ۲۷۰۔ارب الیکٹران وولٹ GEV 270 کی طاقت والے پروٹان ذرات کو اتنی ہی طاقت رکھنے والے اینٹی پروٹان ذرات سے تصادم کرا کے +W اور 2 ذرات کی تجرباتی تصدیق کر دی اور ان ذرات کے متعلق اور ان کی صفات کے متعلق پیش گوئیوں کو صحیح ثابت کر دیا۔(۷) وحدت عظمی اس کے بعد عبد السلام نے بنیادی قوتوں کی وحدت کے زینے پر اگلا قدم رکھا۔یعنی د یک برقی نظر (1) (2)SU کوسٹرانگ نیوکلئر فورس سے ملانے کے کوشش کی۔یہ عمل گرینڈ یونی فی کیشن کہلاتا ہے اور ایسے نظریات G۔U۔T کہلاتے ہیں۔سٹرانگ نیوکلئر فورس یا کوار کس Quarka کے درمیان قوت کا گیج نظریہ (3)SU گروپ کا حامل ہے کیونکہ کوارکس تین قسم کے رنگین چارج رکھتے ہیں۔یہ نظریہ جو ان تینوں رنگوں کو گیج نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔یہ Quantum Chromodynamics کہلا تا ہے۔اس گرینڈ یونی فیکیشن کے سلسلہ کو آگے بڑہانے میں عبد السلام اور یو نیورسٹی آف میری لینڈ (بالٹی مور امریکہ ) کے پروفیسر جو گیش پتی Pati نے ۱۹۷۳ء میں ایک بڑا اہم قدم اٹھایا۔انہوں نے لپٹان ذرات کو کوارکس کے ساتھ ایک یونی فائینگ گروپ میں ساتھ ساتھ رکھا۔گو یا لپٹان ذرات کو ارکس کیلئے چوتھے رنگ کی طرح ہیں اسی طرح کے کام کو جارجی۔گلیشا ؤ۔کوئین اور وائن برگ نے بھی آگے بڑہایا۔اس انداز فکر کے تحت یہ اندازہ لگایا گیا کہ کائینات کے ارتقاء کے شروع میں ایک بہت بڑی طاقت GE 13 10 ) پر یہ تمام فنڈ مینٹل فورسز ایک ہی پیمانے کی ہوتی تھیں۔اور اس طرح سے وحدت کی لڑی میں پروئی ہوئی تھیں۔اور وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ یہ طاقت کم ہوتی جاتی ہے عام حالت میں یہ متینوں قو تیں الگ الگ سمجھی جاتی ہیں (۸) پروٹان کا زوال پذیر ہونا