مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 220 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 220

(۲۲۰) جواب سائینس اس معاملہ میں بلکل نیوٹرل ہے۔یہ بات آپ کے ذاتی رجحان پر مبنی ہے۔یہ آپ کی مذہبی اور کلچرل بیک گراؤنڈ ہوتی ہے جو آپ کو ایک خاص ڈگر پر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔مثلاً میری بیک گراؤنڈ اسلام کی وجہ سے وحدانیت پر ہے۔تو میرے لئے وحدانیت لا زمی امر ہے جن دو کو انعام میرے ساتھ ملا ان میں سے ایک یہودی اور دوسرا عیسائی تھا۔وہ تثلیث پر یقین رکھتا تھا اس کیلئے یہ بات واضح نہ تھی۔سوال: کیا یہ سچ ہے کہ تمام کائینات کو ایک mathematical equation حسابی مساوات میں سمویا جا سکتا ہے؟ جواب: ہم نے یہ بات مشاہدہ کی ہے اور یہ حقیقت ہے۔اس بات کا پتہ نہیں تجربہ سے لگا۔ہاں ایک روز شاید آئے کیونکہ بعض کام ابھی نہیں ہو سکتے تو پھر ہم اپنی رائے بدل لیں گے۔سوال: کیا خدا کا وجود ریاضی کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے؟ جواب: This is rubbish یہ بلکل بے هوده مفروضه هے۔اس بات کو سائینس میں دیکھا اور پر کھا ہی نہیں جاتا ، دیکھیں موت کے موضوع پر سائینس میں کوئی بحث نہیں ہوتی۔انسان کیوں پیدا ہوا اور کیوں مرتا ہے؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سائینس اس مسئلہ کو تو فا رمولیٹ بھی نہیں کر سکتی۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کیلئے ہے جو غیب پر یقین رکھتے ہیں۔غیب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اشیاء جن کا انسان سوچ اور گمان بھی نہیں کر سکتا۔لہذا آپ سائینس کے ذریعہ کسی کا مذہب تبدیل نہیں کر سکتے ، نہ ہی غیر مذہبی کو مذہبی بنا سکتے ہیں۔سائینس تو صرف آپ کو بعض گائیڈ لائنیز دیتی ہے۔سوال: آپ پاکستانی سائینسدانوں کا مقابلہ بھارتی سائینسدانوں سے کیسے کریں گے؟ جواب: میرے خیال میں پاکستانی سائنسدان یقیناً بہت ہی قابل ہیں۔میں یہ نہیں کہوں گا کہ ایک گروپ کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے۔کیونکہ یہ ہر علاقہ میں مختلف ہے۔انڈیا میں ایک نوبل انعام یافتہ ہے جو کہ اب امریکن شہریت حاصل کر چکا ہے۔اس کی پیدائش خانیوال کے قریب یا شجاع