مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 213 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 213

(۲۱۳) گورنمنٹ کو خیال آیا کہ وہ میری خدمات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔چنانچہ صدر محمد ایوب خان نے مجھے IAEA میں جنرل کا نفرنس کیلئے پاکستان کا نمائیندہ مقرر کیا۔وہاں میں نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سائینسی مرکز کسی ترقی پذیر ملک میں تعمیر کیا جائے۔اور اس کو اقوام متحدہ سپورٹ کرے۔۱۹۶۰ء میں تمام ممالک کے وفود نے میری تجویز سے اتفاق کیا۔اور ۱۹۶۱ء میں اطالین حکومت نے ہماری امداد پر حامی بھر لی۔کیونکہ ان کا وفد ایسے مرکز کو اٹلی میں قائم کرنا چاہتا تھا۔۱۹۶۲ء میں اس موضوع پر بہت بحث ہوئی میں پاکستان کا نمائیندہ تھا۔جبکہ ڈاکٹر عثمانی اس وفد کے لیڈر تھے۔مجھے ابھی تک یاد ہے کہ بحث صبح دس بجے شروع ہوئی اور تین بجے دوپہر تک جاری رہی۔اس مرکز کی مخالفت ہالینڈ، امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا اور بھارت نے کی۔ان ممالک نے کہا کہ ایسے مرکز کی کوئی ضرورت نہیں۔مگر ہمارے دوست ممالک یعنی تیونس ، سعودی عرب، عراق، نے کہا کہ نہیں ہمیں ایسے مرکز کی سخت ضرورت ہے۔حالانکہ ان کو تھیور ٹیکل فزکس کے معنی بھی معلوم نہ تھے۔مگر اس روز ہم جیت گئے۔سوال کیا یہ سچ ہے کہ بھارت نے مخالفت کی تھی؟ جواب مسٹر بھا بھا جو انڈین کمیشن کے چیر مین تھے ان کو یہ آئیڈیا ذرا بھی دل نہ لگا تھا۔بہر حال کام سدھر گیا اور بورڈ آف گورنر نے ۳۵،۰۰۰ امریکی ڈالر کی منظوری دے دی۔جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ تھا۔اب ہمیں مرکز کیلئے جائے مقام کی تلاش اور مزید روپے کی ضرورت تھی۔میں اس ضمن میں صدر ایوب خان سے ملنے آیا ، میں ان کو کراچی میں مل چکا تھا وہ اس آئیڈیا سے متفق تھے۔انہوں نے اپنے وزیر خزانہ کو فون کیا اور انہیں بتلایا مجھے کس چیز کی ضرورت تھی۔شعیب نے کہا اس کی کیا قیمت ہوگی؟ صدر ایوب نے ان کو کہا کہ مجھے ایک اچھی عمارت کی ضرورت ہے جہاں ہم قیام کر کے اپنا کام کر سکیں۔تو محمد شعیب نے جواب دیا کہ پروفیسر صاحب کو مرکز کی خواہش نہیں بلکہ ان کو انٹر نیشنل ہوٹل کی خواہش ہے۔اس دوران اطالین حکومت نے پیش کش کر دی اور مرکز ان کو مل گیا۔اب میں اس مرکز کو کئی سال سے چلا رہا ہوں۔