مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 212
(۲۱۲) نے اور میرے انڈین ساتھی مسٹر جو گیش پتی نے ایک تجربہ اختراع کیا۔پھر اسی تھیوری کو ذرا بدل کر پیش کیا گیا چھ ماہ بعد مسٹر گلا شو نے بھی ایسی تھیوری پیش کی۔انڈیا میں ہونے والے تجربات میں متنازع نتائج سامنے آئے ہیں تین ایسے مواقع پیدا ہوئے جن میں proton decay و ا دیکھنے میں آیا ہے۔اٹلی میں تجربات کے دوران ایک موقعہ ایسا آیا ہے جو ہماری سپورٹ کرتا ہے۔پھر امریکہ میں بھی ایک ٹیم کام کر رہی ہے مگر ان کو کوئی شہادت نہیں ملی ہے۔اس معاملہ میں بہت سی باتیں ہیں ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ٹھیک نہ ہو یعنی یا تو کوئی یونی فی کیشن نہیں ہے یا پھر کوئی ایسی چیز ہے جس کو ہم اب تک جان نہیں سکے۔اس کے بعد گریوٹی کے ساتھ اتحاد کرنا ہے جو کہ آئن سٹائین کا سنہری خواب تھا۔سوال آپ کے خیال میں کیا آپ کو ایک اور نوبل انعام ملے گا؟ کیا یہ ممکن ہے؟ جواب ان چیزوں کو انسان بجٹ نہیں کر سکتا۔میری فلاسفی یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں اللہ کی طرف سے تحفہ ہیں اور مجھے کوئی حق نہیں کہ اس سے ملنے والی رقم کو میں اپنے لئے رکھوں۔میں نے یہ اس لئے کہا ہے تا کہ دوسرے بھی ایسا کریں۔انسان کو غائب سے دولت مل جاتی جسکی اسکو کوئی امید نہیں ہوتی۔سوال: آپ PINSTECH & SUPARCO کے بانی ہیں لیکن آپ نے آئی سی ٹی پی ٹریسٹ میں جا بنایا۔آپکو غیر ملک میں جا کر اپنا مقام کیوں بنا نا پڑا؟ نیز آپ کا مرکز تیسری دنیا کے سائینسدانوں کیلئے کیا کر رہا ہے؟ جواب: جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا مجھے وطن بدر کیا گیا۔۱۹۷۹ء میں انعام ملنے کے بعد میں پروفیسر سراج سے ملنے گیا تا کہ میں اپنے پرانے پر نسپل کو ہدیہ سلام پیش کر سکوں۔تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا تم خوش نہیں کہ میں نے تمہیں ملک بدر کیا۔بات یہ ہے کہ میرے لئے ملک میں کوئی جگہ نہ تھی۔میں اپنے لئے اس ملک کے اندر مقام پیدا کرنا چاہتا تھا اور ٹریسٹ میں مرکز بنا نیکا واحد مقصد اس جیسا مرکز پاکستان میں بنانا تھا۔میں اقوام متحدہ کی مدد سے نہ صرف خود بلکہ اپنے دوستوں کو بھی یہاں لانا چاہتا تھا۔۱۹۹۰ء میں آپ کے اخبار پاکستان ٹائمز میں میرے بارہ میں جو مضمون شائع ہوا۔اس کے بعد