مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 180 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 180

(۱۸۰) بتاؤں گا کہ نادر المثال تاج محل دینے والی ٹیکنالوجی پر، نیوٹن کی کتاب پر نسپیا پر قائم ٹیکنالوجی سے ٹکرانے کے بعد کیا بیتی؟ اس ٹکراؤ کا پہلا دھما کہ ۱۷۵۷ء میں ہوا۔شاہجہاں کے تاج محل کی تعمیر کے تقریباً سو سال بعد رابرٹ کلائیو کے ہلکے پھلکے اسلحہ جات کی بہتر کارکردگی نے شاہ جہاں کے وارثوں کو شرمناک شکست دی اور اس کے مزید سو سال بعد ہندوستانی شہنشاہ کا شاندار تاج ملکہ وکٹوریہ کے قدموں پر تھا۔آہ۔یہ صرف ایک عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ نہ تھا بلکہ ایک تہذیب ، ایک تمدن ، اور ایک طرز معاشرت اور ایک ٹیکنالوجی کی موت تھی۔۱۸۵۷ء کے بعد ہندوستانی اسٹیٹ کی زبان فارسی کی بجائے انگریزی ہوگئی۔مشرق کے شیریں نغموں کو اسکولوں کے نصاب سے نکال کر ان کی جگہ شیکسپئیر اور ملٹن کی ادبیات کو لایا گیا۔مشرق کے علمی خزانوں کو تاریخ کے اوراق سے اڑا دیا گیا۔اور ڈھاکہ کے ململ کے خاکستر پر لنکا شائر کے سوتی پرنٹوں کا محل تعمیر ہو گیا۔اسلامی سائینس کے زریں دور کا ذکر کرتے ہوئے اور مسلمان بادشاہوں کے سائینس اور ایجوکیشن کے بارہ میں لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے آپ یوں خون کے آنسو رلاتے ہیں: جارج سارٹن نے اپنی کتاب ہسٹری آف سائینس میں سائینسی کارناموں کو عہد بہ عہد تقسیم کیا ہے مثلاً ۴۰۰ ق م تا ۴۵۰ افلاطون کا عہد ہے۔۷۵۰ تا ۱۱۰۰ء مسلسل چار سو سال مسلمان سائینسدانوں کا عہد ہے۔جن میں جابر بن حیان، موسیٰ الخوارزمی، زکریا الرازی ، مسعودی، ابو الوفا، البیرونی ، اور عمر خیام جیسے مشاہیر اور سائینسدانوں کے نام آتے ہیں۔اس کے بعد ڈھائی سو سال کا زمانہ آتا ہے جس میں ابن رشد ، نصیر الدین القوی ، اور ابن نفیس جیسے فرزندان اسلامی سائینس کا پرچم بلند کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن جب اسلام کو ہندوستان میں عروج ملتا ہے تو حکمت اور سائینس کی روایت ختم ہو چکی تھی۔زمام اقتدار نا خواندہ بادشاہوں کے ہاتھ میں تھی جو فقط اپنے جاہ و جلال کا شوق رکھتے تھے اور بس۔انہوں نے آئندہ نسلوں کیلئے عالی شان مقبروں کے سوا اور کچھ نہ چھوڑا۔کسی مغل مسلمان بادشاہ نے سکولوں، کالجوں ، اور یو نیورسٹیوں کیلئے روپیہ خرچ نہ کیا۔مسلمان بادشاہوں کا یہ رویہ ہنوز جاری ہے۔