مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 173
(۱۷۳) نیز سلام کی تحریروں میں نکھار آنے کے ساتھ ان کا انداز بیان بھی اچھوتا ہو جائے۔کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ لکھنے کی قوت آپ میں خدا نے ودیعت کی تھی اس عمل سے صرف جلاء پیدا ہو گئی۔راقم التحریر ۱۹۹۷ء میں حرمین شریفین کی زیارت کی سعادت سے مشرف ہونیکے بعد جب لاہور گیا تو مجھے مکرم ناصر احمد خالد نے ڈاکٹر عبد السلام کے سکول کے زمانے کے لکھے ہوئے ، لطافت زبان سے بھر پور ایک مضمون کی کاپی دی جو مندرجہ ذیل ہے۔اصل بھی مضمون کے آخر پر شائع کیا جارہا ہے: اقبال میری نظر میں عزیز محمد عبد السلام متعلم جماعت نہم مادر ہند اپنی کم مائیگی اور تہی دتی پر تا ابد کف افسوس ملتی۔اگر اس کی صدف سخن جو کالیداس، خسرو، اور غالب جیسے شاعر پیدا کر چکی ہے۔اقبال سا شہوار پیدا نہ کرتی۔ہمالیہ کی سر بفلک چوٹیاں زبان حال سے بآواز دہل طور بے کلیم ہونے کا اعلان کرتیں۔اور رود مسار گنگا چرخ کی کج ادائی کا شاکی ہوتا۔مے خانہ ہند کا ساغر شراب گلگوں سے لبالب ساقی کا انتظار کر رہا تھا جو اس بام بے مثل کو اکناف عالم میں دور دیتا۔زہے خوش بختی ، ساقی، خوش جمال پنجاب میں سرزمین سیالکوٹ میں جلوہ افروز ہوا۔جس کو اس بات پر بجا فخر ہے کہ اقلیم سخن اردو کے اس تاجدار نے اس مقام پر جسد خا کی پہنا۔۱۸۷۶ء میں اس نوزائیدہ کی طبع رسا سے کون واقف تھا۔جس سے گیسوئے اردو ا بھی منت پذیر شانہ تھی اور جس نے آکر اس کی کایا پلٹ دی ، اور اس کو گنج زر دیا۔اس وقت کیا کسی کو معلوم تھا کہ اس بچہ کی شوخی و گفتار کے چرچوں سے زمین و آسمان گونج اٹھیں گے۔نہیں ہرگز نہیں۔۔مگر فیضان خداوندی اس وقت بھی اس بچہ پر رنگینی اور رفعت تخیل بن کر نازل ہو رہے تھے۔جو کہ انٹرنس کے درجہ تک طبیعت میں محفوظ رہے۔مگر ایف اے کلاس میں مولانا میر حسن کی فیضان صحبت نے ان جواہر کو جلا دی۔مگر دنیائے طب آپ کی ولایت کے سفر سے مراجعت تک تشنہ کام رہی۔جس کے بعد ساقی، شیر میں جمال نے اپنے چھلکتے ہوئے ساغر مے مئے بیخودی دنیا کے سامنے پیش کی۔قوم کے جمود و سکون سے متاثر ہوکر انجمن حمایت اسلام کے سٹیج پر آتش افروزی شروع کر دی۔اور دنیائے اسلام کو بیدار