مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 174
(۱۷۴) کر دیا۔آپ کی قبولیت عامہ کا یہ عالم ہے کہ آپ کی سوانح حیات آپ کی زندگی ہی میں لکھی گئی۔اور آپ کی تصنیفات اسرار بیخودی، پیام مشرق، زبور عجم ، وغیرہ کے تراجم دنیا کی بہت سی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔اور یہ کتب اکناف عالم میں پھیل چکی ہیں۔ہماری دعا ہے کہ وہ سلامت رہیں ہزار برس ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار۔۔۔۔۔۔۔۔۔اغلبا يه تحریر ١٩٣٩ کمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوائل عمر سے ہی آپ کو اردو۔عربی۔فارسی اور انگلش زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔ہائی سکول کی تعلیم ختم کرنے کے بعد جب آپ گورنمنٹ کالج جھنگ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ ادبی مضامین زیب قرطاس کرتے رہے، آپ کے والد گرامی نے کالج کے پرنسپل سے ایک روز پوچھا کہ کیا سلام کے مضامین معیاری ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے مشورہ دیا کہ سلام کو نصیحت کریں کہ وہ اپنے مضمون کے متن میں دوسرے ادیبوں اور قلم کاروں کے لمبے لمبے حوالے نہ پیش کیا کریں۔گورنمنٹ کالج جھنگ کے دوسرے سال میں آپ رساله چناب کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔اس رسالہ میں آپ نے ایک نہایت نفیس اعلیٰ درجہ کا مضمون اسد اور غالب کے موضوع پر لکھا اور ثابت کیا کہ برصغیر کے مشہور شاعر اسد اللہ خاں غالب نے اپنا تخلص اسد سے کب تبدیل کیا ، آپ نے محنت طلب تحقیق سے اس سال کا تعین کیا۔بعد میں یہی مضمون اس دور کے مشہور عالم جریدہ ادبی دنیا کے صفحات کی زینت ۱۹۴۳ء میں بنا۔۔سلام اس عمدہ تحقیقی اور ادبی مضمون پر ہمیشہ فخر کیا کرتے تھے۔گورنمنٹ کالج لاہور میں آپ کی قلمی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو کالج کے رسالہ راوی کے دونوں حصوں (یعنی انگریزی اور اردو) کا مدیر اعلیٰ مقر ر کیا گیا۔دریں اثناء آپ کالج کی سٹو ڈنٹ یونین کے صدر بھی تھے۔مجھے راوی رسالہ کے پرانے شماروں میں سے ۱۹۴۰ء کا لکھا ہوا آپکا ایک مضمون ملا ہے جس کا عنوان ہے Hair & Hair Dressers یہ مضمون اس کتاب کے انگریزی حصہ میں شامل اشاعت ہے جسے پڑھ کر قارئین آپ کی خداداد لیاقت اور قابلیت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔