مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 170 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 170

(۱۷۰) کی تسکین نہ کرسکا تو امپرئیل کالج کی چار دیواری سے نکل کر دنیا کے سب سے بڑے فورم اقوام متحدہ میں سائینس اور تیسری دنیا کے حق میں آواز بلند کی اور آخر کار اپنی کرشمہ ساز شخصیت اور عالمی شہرت کے بل ہوتے پر اٹلی میں عالمی ادارہ برائے نظری طبیعات قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس مرکز کا وجود میں آنا معجزہ سے کم نہ تھا۔مگر جھنگ کے اس عقاب کی پرواز یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔اب وہ اسلامی دنیا اور دوسری ترقی پذیر اقوام کیلئے نئے راہیں تلاش کرنے لگا۔کہیں تھرڈ ورلڈ ا کا ڈمی آف سائینس قائم کی جا رہی ہے اور کہیں سائنس سٹی بنانے کے ارادے ہیں۔یہ سب کچھ فزکس کی گرینڈ یونی فی کیشن تھیوری اخذ کرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا تھا۔ان کا ارداہ تھا کہ آئی سی ٹی پی کی طرح بہت سے بین الا قوامی مراکز کا جال بچھا دیا جائے۔اور اب کئی ایک مراکز ٹریسٹ والے سائینسی مرکز کی طرز پر نمودار ہو رہے ہیں۔اس کے ساتھ اقوام متحدہ کی ایک یونیورسٹی بھی قائم ہو جائے جس کا نمونہ جاپان میں اس وقت کام کر رہا ہے۔یہ سب کام ، یہ سب ارادے، یہ سب ارمان ، نومبر ۱۹۹۶ء کو وہ اپنے ساتھ لے کر آسودہ خاک ہو گئے۔آج وہ ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی باتیں نہ ختم ہو نیوالی ہیں۔ان کے کارنامے سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔آسماں ان کی لحد پر نورافشانی کرے پروفیسر غلام مرتضیٰ ۲۹ کتابوں کے مصنف ہیں۔ان کے ۱۳۴ ریسرچ پیپرز ایلی میٹری پارٹیکل فزکس، پلازمہ فزکس، اور کنٹرولڈ نیوکلئیر فیوژن کے موضوع پر عالمی سائنسی جرنلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ۲۰۰۰ ء میں وہ سلام چئیر کے پہلے پروفیسر مقرر ہوئے تھے۔پاکستان میں سلام کے نام پر قائم ہو نیوالی یہ واحد چئیر ہے، خدا کرے یہ ایک روز آئی سی ٹی پی کی شکل میں ڈھل جائے