مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 169
(179) ایسا ہی کیا ہے۔کہنے لگے یہ کوئی جواب نہیں۔سائینسی تحقیق میں دوسرے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔پھر میز پر پڑے ہوئے رسالہ فزیکل ریویو اور دوسرے رسالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تمہارا کیا خیال ہے کہ اس خرافات کے پلندے پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ Do you think you can trust all this junk? خیر ہم نے ان کی تجویز کردہ کنٹری بیوشن اس میں شامل کیں۔اور مسودے کو اشاعت کیلئے بھجوا دیا۔یہ ہماری پہلی پبلی کیشن تھی۔اس پر سیمینار بھی دیا۔جس میں میتھیوز اور دوسرے اساتذہ شامل تھے۔مگر سلام کہیں سفر پر گئے ہوئے تھے۔اس لئے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ورنہ ہم سٹیج پر ہی ڈھیر ہو جاتے۔ہمہ جہت شخصیت سلام مرحوم کا یہ خاصا تھا کہ ان کی بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے انسان انسپائر ضرور ہوتا تھا وہ ہر وقت excited state میں ہوتے تھے۔جس سے دوسرے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔جہاں بھی جاتے ہلچل مچا دیتے۔نت نئے خیالات ایسا لگتا کہ انقلاب آنیوالا ہی ہے۔ڈی پارٹمینٹ کی حالت یہ تھی کہ مسلسل مہمان سائینسدان چلے آ رہے ہیں۔کثرت سے سیمینار ہورہے ہیں۔کیا یورپ، کیا امیریکہ، دنیا جہاں سے ماہرین طبیعات Kensington South کے طواف کیلئے کھنچے چلے آرہے ہیں۔آج فیلڈ مین Feldman آئے ہوئے ہیں تو کل جے سی وارڈ ، Ward۔ڈیپارٹمنٹ میں لٹریچر کی بھر مار رہتی۔ہر روز ڈاک میں اکناف عالم سے پری پرنٹس کے ڈھیر پہنچ رہے ہوتے تھے۔سلام مرحوم ( نوراللہ مرقده) به حیثیت استاد سپون فیڈنگ تو نہ کرتے تھے۔مگر وہ آپ کو ایک آئیڈئیل ما حول ضرور مہیا کرتے تھے۔جہاں انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتا تھا۔ان کے کیرئیر پر ایک سطحی نظر ڈالی جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کی ہمہ جہت شخصیت اتنی عظیم تھی کہ گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد کیمبرج یونیورسٹی بھی چھوٹی ثابت ہوئی۔یہاں تک کہ امپیرئیل کالج کو اس بات پر ناز تھا کہ وہاں نوبل انعام یافتہ ستاروں کا جھرمٹ رہتا ہے۔جب یہ بھی تخیل