مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 166
(۱۶۶) سلام کو یہ حیثیت استاد کیسا پایا؟ وہ یقیناً ان اساتذہ میں سے نہیں تھے جو لیکچر کی تیاری میں محنت کرتے ہیں اور کوشش کے ساتھ اس کو آسان فہم بنا کر پیش کرتے ہیں۔یہ سٹائل صرف پروفیسر پی ٹی میتھیوز کا تھا۔سلام صاحب کا نہیں اور نہ وہ ایسے اساتذہ میں سے تھے جو لیکچرز کے نوٹس تیار کرتے ہیں اور پھر خوبصورت طریق سے بلیک بورڈ پر ہو بہو نقل کر دیتے ہیں۔اس طرح بلیک بورڈ پر لکھا ہوا لیکچر کتاب کی صورت بن جاتا ہے۔یہ پروفیسر کبل Kbble کا انداز تھا۔سلام کا نہیں۔ان کا انداز منفرد تھا ان کے نزدیک مذکورہ باتیں خاص اہمیت کی حامل نہ تھیں۔یہ نہیں کہ وہ ایسا کر نہیں سکتے تھے۔ہم نے ان کے کئی سیمینار سنے اور ان کو کئی انٹر نیشنل کانفرنسوں میں دیکھا اور سنا جہاں وہ وی آئی پی سپیکر کی حیثیت سے مدعو ہوتے تھے۔ان کے لیکچر سننے کیلئے لوگ بے تاب ہوتے تھے، ہال کھچا کھچ بھرا ہوتا تھا۔سحر انگیز لیکچر۔باتیں طبیعات کی ہو رہی ہوں اور انداز بیان لٹریری ہو۔زبان پر کیا عبور ہے کہ اہل زبان بھی عش عش کر اٹھتے ہیں۔پھر اس پیکر علمیت و فطانت کو کس طرح سامعین سے والہانہ داد ملتی ہے کہ جیسے کبھی کے دل کی آواز ہے۔میں امپیرئیل کالج میں ڈی آئی سی کورس لے رہا تھا۔سلام نے اپنے کورس کا آغاز تھیوری آف لائی گروپس سے کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب پارٹیکل فزکس میں گروپ تھیوری کے نظریات شامل ہونے لگے تھے۔جس کے نتیجہ میں SU(3) Symmetry group اور Eighthfold way معرض وجود میں آئے۔اور Omega Minus کی دریافت ہوئی۔اور ساتھ ہی ساتھ کو ارک ماڈل Quark Model کی باتیں ہونے لگیں۔کچھ دنوں بعد سلام کے لیکچرز کا انداز بدل گیا۔اب وہ جب کلاس روم میں داخل ہوتے تو ان کے ہاتھ میں ریسرچ جرنلز کے تین چار شمارے ہوتے تھے۔جن میں جگہہ جگہہ اشارے رکھے ہوئے ہوتے تھے۔اب لیکچرز میں فرنٹیر زآف فزکس کی باتیں ہو رہی ہیں۔تحقیقی مسائل کا تجزیہ ہو رہا ہے۔لکھتے لکھتے بلیک بورڈ بھر جاتا ہے۔خیالات و افکار کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔بورڈ پر تیروں کے نشان بکھرے ہوئے ہیں۔مختلف اجزاء کو ایک لڑی میں پرویا جا رہا ہے۔اکثر باتیں طلباء کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔