مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 162
(۱۶۴) درجنوں سائینسدان مختلف اداروں اور یو نیورسٹیوں میں اس مضمون کو پڑھا رہے ہیں۔میرے لئے یہ بات اطمینان بخش ہے کہ میں نے اپنے عظیم اور محترم استاد پر و فیسر عبد السلام مرحوم کی خواہش کے مطابق اور ان کی زریں نصیحت پر عمل کرتے ہوئے یہ کام کیا۔اور یوں پاکستان کی اہم ضرورت کو پورا کرنے کی سعی کی۔ڈاکٹر صاحب سینٹر کو کس طرح چلاتے تھے ؟ آئے اس کی جھلک میں آپ کو دکھلاتا ہوں۔انہوں نے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کروائی، جس کا موضوع تھا: Contemporary Physics۔یہ کا نفرنس فزکس کے پورے پیکٹرم پر محیط تھی۔اس مہینہ بھر کی کانفرنس میں تین سو سے زائد سائینس دانوں نے شرکت کی۔جن میں سے بہت سارے تیسری دنیا سے تھے۔میں بھی ان خوش نصیبوں میں سے تھا جس نے اس میں شرکت کی۔غور کریں کہ تیسری دنیا کا ایک سائینسدان جو عام طور پر کنویں کے مینڈک کی طرح دنیا سے الگ تھلک رہتا ہے۔مہینہ بھر ایک ایسے ماحول میں گزارتا ہے جہاں اس صدی کے شہرہ آفاق سائینسدان موجود ہیں۔ایسی نامور ہستیاں جن کا ذکر اس نے کتابوں اور رسالوں میں پڑھا ہوتا ہے۔انسان ان کے ساتھ کئی دن گزارتا ہے۔ان کو سنتا ہے۔ان سے گفتگو کرتا ہے۔اس کا نفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ دن کے معمول والے اجلاسات کے علاوہ شام کو خاص لیکچرز ہوتے تھے۔اور اس کیلئے موجودہ صدی کے چوٹی کے چھ سائینسدانوں کو مدعو کیا گیا تھا جن کے نام یہ ہیں: Heisenberg, Dirac, Hans Bethe, E۔Wigner, Oscar Klein, Landau۔مسٹر لا نڈاؤ علالت کی وجہ سے اس میں بہ نفس نفیس تشریف نہ لا سکے لہذا ان کی طرف سے ان کے ساتھی جرمن سائینسدان لف شٹر Lifshitz نے شرکت کی۔یہ گرینڈ اولڈ ماسٹر ز وہ نامور ہستیاں تھیں جنہوں نے بیسویں صدی کی فزکس کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔گویا کہ شام کے لیکچر ز فزکس کی کہانی ان کے خالق کی زبانی کا پروگرام ہوتا تھا۔جس میں یہ لوگ ان واقعات، کیفیات اور پس منظر کا ذکر کرتے تھے جو انہیں اپنے تخلیقی سفر میں پیش آئے تھے۔