مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 160
(۱۶۰) پیش نظر ہماری ملاقاتوں میں کافی عرصہ تک تعطل رہا۔ستمبر ۱۹۸۲ء میں وہ یہاں آٹو ا تشریف لائے۔میں انہیں ائیر پورٹ پر لینے گیا۔وہاں میں اکیلا ہی تھا کیونکہ دوسرے احباب ان کا استقبال ان کے شایان شان اس لئے نہ کر سکے کہ ان کو انکی آمد کی پیش خبر نہ تھی۔مگر میں نے ان کی آمد کا پتہ لگا لیا۔چنانچہ ائر پورٹ پر میں ہی انہیں خوش آمدید کہنے والا تھا۔مجھے وہ پر تپاک طریق سے ملے۔مجھے دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے۔چند روز آٹواہ میں انہوں نے قیام کیا۔اس دوران میرے غریب خانہ پر بھی تشریف لائے۔ان کے ساتھ باتیں کر کے پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے انکو خط کے ذریعہ تاکید کر دی تھی کہ آٹواہ آنے پر وہ مجھ سے رابطہ کریں۔میری یادیں تو ان کے ساتھ بہت ہیں۔لیکن ان چند باتوں پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔اب عمر کے اس دور میں ہوں کہ باتیں صفحہ قرطاس پر اتارنا دشوار ہے۔لکھتے رہے جنوں میں حکایات خوں چکاں گو ہاتھ اس میں ہمارے قلم ہوئے عظیم لوگوں سے بدسلوکی (روز نامہ جنگ ۲۵ مئی ۲۰۰۱ ، راولپنڈی ) احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں: نہ جانے پاکستان کے بعض عناصر اپنے ہاں کے صحیح معنوں میں عظیم لوگوں کے ساتھ بدسلوکی پر کیوں کمر باندھ رہتے ہیں۔پہلے ہم ڈاکٹر عبدالسلام سے بھی کچھ ایسا ہی برتاؤ کر چکے ہیں۔وہ بھی پاکستان کا سرمایہ ناز ہیں۔انہوں نے اپنی پاکستانیت سے دست کشی کا گناہ کبھی نہ کیا۔وہ آخر دم تک بند رہے کہ پاکستان کو سائینسدانوں کے معاملے میں خود کفالت کی طرف بڑھتے رہنا چاہئے۔انہیں نوبل انعام ملا تو دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن ہوا۔مگر جب پاکستان میں اس وقت کی حکومت نے ان کے اعزاز میں اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کرنا چاہی تو بعض عناصر (جماعت اسلامی اور جمعیت طلباء) نے اس تجویز کی محض اس بناء پر مزاحمت کی کہ ڈاکٹر صاحب ان کے ہم عقیدہ نہیں تھے۔یہ عناصر بھول گئے کہ وہ پاکستانی ہیں۔جو اعزاز انہیں ملا ہے وہ دراصل پاکستان کا اعزاز ہے۔