مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 154
(۱۵۴) مرزا منور احمد (ٹورنٹو) انجنیر نکتہ داں ، نکتہ سنج ،نکتہ شناس خاکسار کو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں پرنسپل انجنیر کی پوسٹ پر تقریباً سترہ سال تک سروس کرنے کے دوران ڈاکٹر عبد السلام مرحوم سے متعدد بار ملاقات کر نیکا شرف حاصل ہوا۔اس ناطے ڈاکٹر صاحب جیسے محب الوطن کے متعلق یوں تو بے شمار یادیں ذہن کی لوح پر محفوظ ہیں۔جن کا احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں البتہ ان کی حب الوطنی کے جذبہ کی ایک انمٹ یاد پیش کرتا ہوں۔راقم الحروف نے ۱۹۷۳ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطور اسٹنٹ انجنئیر ملازمت شروع کی۔اس سال ڈاکٹر صاحب سے پہلی بار بالمشافہ ملاقات کرنے کے علاوہ ان کی تھیوری اور اس پر مسلسل ریسرچ کے متعلق ان کے لیکچرز سننے کا بھی موقعہ ملا۔یہ وہی تھیوری تھی جس کی بناء پر ان کو ۱۹۷۹ میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ان کی شخصیت، خود اعتمادی، فراست، اور منکسر المزاجی کا ایک حسین امتزاج تھی۔چشمے کے پیچھے ان کی آنکھوں کی چمک اور بارعب چہرے سے چھلکتی ذہانت ان سے ملنے والوں پر ایک عجیب اثر انگیز کیفیت چھوڑ جاتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم جب پاکستان تشریف لاتے تو پاکستان اٹا مک انرجی کے تمام چھوٹے اور بڑے افسران ان کے آگے پیچھے رہتے۔ہر فرد اس تگ و دو میں ہوتا کہ ان کی نظر التفات اس پر پڑے۔اور ڈاکٹر سلام اس کی ہائیر سٹڈی یا ریسرچ کیلئے سفارش کر دیں۔ان کی بھی یہی خواہش ہوتی کہ کسی بھی سائینس دان میں کوئی بھی قابلیت ہو تو اس کیلئے بیرون ملک اعلی تعلیم ، ٹریننگ، یا ریسرچ کا خاطر خواہ انتظام ہو جائے۔تا کسی قسم کا جو ہر مستقبل میں ملک وقوم کی احسن رنگ میں خدمت کر سکے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں تھیور ٹیکل فزکس کے جتنے پی ایچ ڈی سائینس دان ہیں ان کی اکثریت ڈاکٹر صاحب کی مہربانی سے اس مقام پر پہنچی تھی۔