مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 153 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 153

(۱۵۳) کی یہ وسیع القلمی اور دریا دلی ساون کے اس بادل جیسی تھی جو ہر طرح کی زمین برستا ہے اور اس زمین کو سیراب کرتا ہے۔ڈاکٹر عبدالغنی نے اپنی کتاب میں ان کی اس انسان دوستی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: اسلامی تعلیمات کے زیر اثر ڈاکٹر سلام نے اپنی ساری تو انائیوں اور صلا حیتوں کو پوری انسانیت کیلئے وقف کردیا ھے۔ان کا دل بے درودیوار ھے۔جس میں ھر محکوم، محروم اور مظلوم کیلئے بلا لحاظ و نسل اور مذهب و ملت ، بے پایاں درد اور تڑپ ھے۔(كتاب ڈاکٹر عبد السلام ۱۹۸۲ء صفحه (۱۸۲) سچ تو یہ ہے کہ دکھی انسانیت کے اس مونس شخص کی فراخدلی کا اندازہ لگانا ہی ناممکن تھا۔فی الواقعہ ان کا وجود نخر دو عالم ، نبی پاک ﷺ کی اس حدیث کا پورا مصداق تھا: من تواضع لله رفعه الله الى السماء السابعة یعنی جو شخص اللہ تعالی کی خاطر عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کے درجات ساتویں آسمان تک بلند کرتا ہے، آج جب کہ ڈاکٹر صاحب ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو چکے ہیں۔میرے غم ناک دل کے آنگن میں نا قابل فراموش لمحوں سے آراستہ یادوں کے مہکتے ہوئے گلاب اور ہونٹوں پر کھیلتے ہوئے جناب ثاقب زیروی (مرحوم) کے یہ شعر آپ کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں : کہاں گئے وہ زمانے کہاں گئے وہ لوگ جو قلب و جاں میں دئے پیار کے جلاتے تھے نوید صبح مسرت تھی جن کے پاؤں کی چاپ جھلک سے جن کی در و بام جگمگاتے تھے زندگی اگر ایک راہ گزر ہے تو عقل اس راہ گزر کا چراغ ہے۔اس چراغ کی روشنی میں راستہ صاف نظر آسکتا ہے مگر اس کیلئے چشم بینا کافی نہیں اس کیلئے دل بینا کا ہونا ضروری ہے۔انسان کا مشاہدہ اور فہم جب مل جاتے ہیں تو علم و حکمت وجود میں آتے ہیں۔