مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 152 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 152

(۱۵۲) کہ ان سے ملاقات کیلئے کوئی پیش گی اپوائنٹ مینٹ کی ضروت نہ ہوتی تھی۔اگر ان کے دفتر کا دروازہ کھلا ہوتا تو کسی وقت کوئی بھی شخص ان سے ملاقات کر سکتا تھا۔ان کے دفتر کا دروازہ صرف اسی وقت بند ہوتا تھا جب کوئی ان سے ملاقات کرنے آتا تھا۔یا وہ خود ٹریسٹ سے باہر ہوتے۔میں جب بھی ان سے ملنے گیا ان کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ مطالعہ کیلئے ہوتا تھا۔ان کے دفتر میں دیواروں پر ہر طرف قرآنی آیات فریموں میں آویزاں تھیں۔جن سے ان کا قرآن حکیم سے عشق اور اسلام سے قلبی لگاؤ ظاہر ہوتا تھا۔وہ اپنے لیکچرز میں بھی قرآنی آیات کے حوالے دیا کرتے تھے۔نمازوں کے بہت پابند تھے بلکہ آئی سی ٹی پی میں مسلمان ممالک سے آئے ہوئے طلباء کیلئے صلوۃ الجمعہ کی امامت بھی کیا کرتے تھے۔دوسرے ممالک سے جب سائینسدان سینٹر میں آتے تو اپنے ساتھ اپنے ممالک کے سو د نیرز اور تحائف لیکر آتے تھے۔یہ ان کی ڈاکٹر صاحب سے محبت و چاہت کا اظہار ہوتا تھا۔ان اشیاء کو نہایت قرینے سے مرکزی عمارت میں سجایا جاتا تھا۔اس کے علاوہ مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ یادگاری تصاویر بھی اس جگہ پر لگی ہوتی تھیں۔ان سب چیزوں اور تصاویر کو ایک جگہ پر دیکھ کر ایک ایسے سادہ سے انسان کی عظمت کردار کا ثبوت ملتا ہے۔جو ایک بلند مقام رکھنے کے باوجود دوستی، چاہت، مروت، وضع داری، عاجزی اور انکساری کا مرقع تھا۔میں نے اس مرقع اخلاق انسان کو بہت قریب سے دیکھا اور ایک عظیم دل حلیم انسان پایا۔اس نیک سیرت انسان کا دلر با سراپا جب بھی نظروں کے سامنے آتا ہے تو قلب و نظر بے اختیار پکار اٹھتے ہیں: پلکوں پہ یوں بھی ہے تیرے رخ کی چاندنی بھولے ہوئے ہیں مدتوں سے تیرگی کو ہم کئی دوست اپنی مالی پریشانیوں کا ذکر کر کے ان سے مالی اعانت کی درخواست کرتے تھے۔سینٹر میں قیام کے دوران ایسی درخواستوں کو پڑھنا اور ان کے جواب دینے کا کام میرے سپر د تھا۔انہوں نے کبھی کسی ضرورت مند کو انکار نہ کیا۔بلکہ بعض دفعہ فوراً چیک لکھ کر دیتے تھے کہ یہ فی الفور میل کر دو۔ان