مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 150
(۱۵۰) کہ ڈاکٹر سلام پر رقت طاری ہو گئی تھی۔اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے تھے۔یہ لفظ دہراتے جاتے تھے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ڈاکٹر درانی لپک کر میرے پاس آئے اور کہا قاسم باقی کا مضمون مت پڑھو۔میں فوراً بیٹھ گیا، لیکن ڈاکٹر سلام نے فرمائش کی کہ باقی کا مضمون پڑھا جائے۔میں نے مضمون جی کڑا کر کے پڑھا، اور انہوں نے جی کڑا کر کے سنا۔میں مضمون ختم کر کے مائیک سے ہٹنے لگا۔تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے مجھے بلایا۔اور اپنی خفیف آواز میں کہا میں آپ کا ممنون ہوں۔اپنی صدارتی کلمات میں انہوں نے تقریر نہیں کی بلکہ کہا میں کیا عرض کروں۔میں تو آپ سے بھیک مانگنے آیا ہوں۔ہماری اکیڈیمی کو کوئی صدقہ یا خیرات دیجئے۔TWAS ترقی پذیر ممالک میں سائنس کی ترقی اور ترویج کیلئے کام کر رہی ہے۔سرسید نے چنکی پنکی آٹا لے کر کالج قائم کیا تھا۔میں بھی سرسید کا ایک ادنی خادم ہوں آپ نے چندہ نہیں دینا نہ دیں۔مگر اتنا عرض کر دوں کہ آپ کا ملک پاکستان ایک غریب ملک ہے۔اپنی کمائی میں سے کچھ نہ کچھ اپنی مادر علم کو بھیجتے رہا کریں۔جہاں سے آپ نے تعلیم حاصل کی اور اس قابل ہو سکے کہ یہاں آکر ملازمت کر سکیں۔ہمارے ملک میں سب سے کمزور پیشہ استاد کا ہے۔ان نصیحتوں کا اثر یہ ہوا کہ اس اجلاس میں کسی نے ایک دھیلہ بھی چندہ جمع نہ کرایا۔دنیا کی تیس سے زیادہ یو نیورسٹیوں سے ڈاکٹر آف سائینس کی ڈگری حاصل کرنے والا شخص دنیا کا سب سے بڑا انعام حاصل کر نیوالا شخص، آج کس قدر بے بسی اور بے چارگی کے ساتھ، لیکن کس قدر شائستگی کے ساتھ اور اپنے تین صد مہمانوں کے آگے بھیک مانگ رہا ہے۔میں شش و پنج میں پڑا ہوا کہ میں ان کے پاس مصافحہ کیلئے جاؤں نہ جاؤں۔بھولی بسریں یادیں معذور جسم کے اندر زہر بن جاتی ہیں۔بہتر ہے کہ میں ان سے ملے بغیر چلا جاؤں۔ابھی میں مڑنے والا ہی تھا کہ ان کی گردن میں جنبش ہوئی۔انہوں نے مجھے دیکھ لیا میں ان کے قریب گیا، ان کی خفیف آواز سننے کیلئے اپنا چہرہ ان کے چہرے کے بلکل قریب کر دیا۔فرمایا کل آپ نے ڈاکٹر عثمانی کا ذکر کر کے بہت اچھا کیا۔اللہ آپ کو خوش رکھے۔جائے پاکستان کی خدمت کیجئے۔اور احباب اگر میرا حال پوچھیں تو کہنا اب اچھا ہے۔سب کو میرا سلام کہنا۔**