مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 142 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 142

(۱۴۲) کی مادری زبانیں ہیں ان سے استمداد لازمی ہے میں دونوں کے درمیان کھڑا تھا۔کہتا تھا کچھ تو بین الاقوامی اصطلاحیں لکھی جاسکتی ہیں۔مگر تمام کی تمام نہیں۔میں نے ڈاکٹر صاحب کی رائے جانچنے کیلئے سندھ ٹیکسٹ بورڈ کی جنرل سائینس کی نصابی کتاب برائے جماعت نہم بغل میں ڈال لی۔ائر پورٹ کے وی آئی پی روم میں میں پہلا شخص تھا جس نے ان کا استقبال کیا۔وہ ہشاش بشاش اور تازہ دم لگ رہے تھے۔صوفے پر بیٹھتے ہی انہوں نے جیب میں سے قرآن مجید نکالا۔میں نے سوچا کوئی سوال ذھن میں ابھرا ہوگا۔جس کی تائید یا تردید کیلئے قرآن سے مدد لی ہوگی۔اس کے بعد میرا حال پوچھا۔میں نے انگلش میں جواب دیا تو فرمایا : نہیں صاحب پنجابی یا اردو۔انگریزی بول بول کے جبڑے تھک جاتے ہیں۔اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔میں نے فوراً اس نصابی کتاب کا ایک صفحہ کھولا اور اس کا ایک پیراگراف پڑھنا شروع کر دیا۔ڈاکٹر صاحب نے ہنسنا شروع کر دیا۔وہ سمجھ گئے کہ اردو میں انگریزی اصطلاحات کو جوں کا توں رکھنے کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔میں مزید پڑھتا گیا۔ڈاکٹر صاحب سنتے جاتے اور قبقہ لگاتے جاتے تھے۔ان کا قہقہ حلق کے اندر سے پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کی زنجیر در زنجیر لہریں آنکھوں کی باطنی مسکراہٹ سے مل کر یکا یک بگ بینگ کی طرح اس طرح پھیلتی جاتی ہیں کہ اگر وہ خود بھی چاہیں تو روک نہیں سکتے۔اور پھر قہقہے کی گونج رفتہ رفتہ دھیرے دھیرے اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر خود بخو د رک جاتی ہے۔یه گفتگو جاری تھی کہ دوسرے حضرات بھی تشریف لے آئے اور میرا Over اور ختم ہو گیا۔تحریک ختم نبوت کوئی ڈیڑھ سال کے بعد ایسا وقت آیا کہ ڈاکٹر عبد السلام کا قادیانی ہونا میرے لئے گویا عذاب بن گیا۔یوں تو تحریک ختم نبوت کے رسالہ میں ڈاکٹر صاحب کے سائینسی مضامین کے حوالے سے ہلکے پھلکے مضامین شائع ہوتے رہتے تھے۔مگر اب ان کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے شروع ہونے لگے کہ تمہارے دفتر کو نذر آتش کر دیا جائیگا۔تم اس زندیق کو اس قدر لفٹ کیوں کراتے ہو کہ ہر