مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 143
(۱۴۳) شمارے میں اس کا مضمون شائع کیا جاتا ہے۔اور دوسرے طریقوں سے اس کی پہلیسٹی کی جاتی ہے۔ٹیلی فون بھی موصول ہونے لگے۔میرے اہل خانہ اور عملہ نے سمجھایا کہ فی الحال ان کی تحریریں چھاپنا بند کر دیں۔میں نے سوچا اگر کسی معیاری رسالے میں مضمون شائع ہی کرنا جرم ہے تو ایسے رسالہ کا شائع کر نیکا مقصد ہی کیا ہے؟ میں نے یہ مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔بلکل اسی زمانہ میں یونیسکو کی سکرٹری شپ کیلئے اندرون ملک اور بیرون ملک یہ مہم چلی کہ پاکستان کا نمائندہ یعقوب علی خاں ہونا چاہئے یا ڈاکٹر عبد السلام؟ میں نے ایک مضمون لکھ کر ان کی حمایت کی اور کہا کہ ہمارا مفاد اسی میں ہے کہ ملک کا ایک نوبل انعام یافتہ عالمی مقابلے میں کھڑا ہو۔جس کے مدبروں اور دانش وروں سے دوستانہ تعلقات ہیں۔مجھے امید ہے ہمارا نمائندہ بلا مقابلہ جیت جائے گا۔تحریک ختم نبوت کے دفتر سے فون آیا کہ ہم اپنے تازہ شمارہ کیلئے آپ سے انٹر ویو کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا چشم ما روشن دل ماشاد۔دوسرے دن کا وقت طے ہوا اور جائے ملاقات میرا دفتر۔وہ چار حضرات تھے۔بہت ملائم شفیق ، اور بھلے، انہوں نے گفتگو کے آغاز میں ہی مجھے نہتہ کر دیا اور کہا کہ آپ آل رسول ہیں۔فاتح سندھ محمد قاسم کے عزیز۔ہم آپ کی علمی اور دینی خدمات کے دل سے معترف ہیں۔آپ کی تصانیف ہم پڑھتے ہیں آپ نے رسالہ نکال کر قوم پر احسان عظیم کیا ہے مگر جسطرح آپ ڈاکٹر عبد السلام کی تحریریں جوش و خروش سے چھاپتے ہیں کیا آپ خود بھی قادیانی ہیں؟ احتسابی عدالت نے میرے لئے ایک انچ جگہ بھی نہ چھوڑی۔میں نے کہا ان کے مضامین شائع کرنے سے میں ان کا ہم عقیدہ تو نہیں ہو جا تا۔ایک بولا دیکھیں یہاں صرف ایک تصویر آویزاں ہے اور وہ بھی عبد السلام کی۔کیا یہ ہمارے شبہ کا ٹھوس ثبوت نہیں؟ میں کچا پڑ گیا اور کہا کہ آرٹسٹ سے جو تصویر بنوالی وہ فریم کرا کے آویزاں کر دی۔دوسرے نے جنگ لاہور کا تراشہ نکالا اور یہ خبر پڑھ کر سنائی کہ ڈاکٹر سلام نے قاسم محمود کی سائینسی خدمات کے اعتراف میں ایک ہزار ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔کیا یہ ثبوت نہیں کہ قادیانی حضرات سے آپ کا گہرا تعلق ہے؟ یہ خبر سچ تھی کہ لاہور میں فیض صاحب کی برسی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے