مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 140
(۱۴۰) اب کے ہم بچھڑیں تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں رومان خیز خواب، اور سوکھے ہوئے پھول نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی اولین ضرورت سائینس ہے۔تلاش بسیار کے بعد ملک کے پچاس بڑے سائینسدانوں کی ایک فہرست تیار کی گئی۔اس کے علاوہ عالمی شہرت کے درج ذیل سائینسدانوں سے مضامین کی درخواست کے علاوہ ان سے پیغام خواص طلب کئے گئے۔Isaac Asimov, Carl Sagan, Dr Abdus Salam, Arthur Clark سب سے پہلے ڈاکٹر عبد السلام کا مضمون اور ان کا پیغام اور خط موصول ہوا۔جو ٹریسٹ اٹلی سے آیا تھا خط کے آخر پر سرخ روشنائی سے دستخط کرتے وقت اپنے ہاتھ میں لکھ دیا تھا ، میں آپ کا دیرینہ مداح ہوں۔یہ ایک جملہ ہمیشہ کیلئے میری روح میں اتر کر جینے کی خواہش کو دو آتشاں کر گیا لفظ شاباش یا کوئی اور حوصلہ افزا کلمہ آدمیوں کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔شاید یہ پنجاب یو نیورسٹی میں ملازمت کے دوران پیدا ہونے والے تعلقات کی طرف اشارہ تھا۔جو تعلق وہیں پیدا ہوا اور و ہیں منقطع ہو گیا تھا شاید یہ اشارہ ان تحریروں کی طرف تھا جو شوق جنوں میں مجھ سے سرزد ہو گئی تھیں۔اور جن کا دائرہ کار صرف پاکستان تھا۔یہ لندن میں رہنے والا سائینسدان میرے کام سے کیسے واقف ہوا ہوگا ؟ لیکن اس میں مجھے اس قدر اور انکساری محسوس کر نیکی کیا ضرورت ہے۔وہ اگر میرے دیر سینہ مداح ہیں تو اس میں کیا مذائقہ ہے۔وہ مجھ سے صرف دو سال ہی تو بڑے ہیں۔انہوں نے میٹرک میں ۸۵۰ میں سے ۶۵ نمبر حاصل کئے تھے۔اور میں نے ۷۶۳، دو نمبروں کا ہی تو فرق تھا۔اگر مجھے بر وقت معلوم ہو جاتا تو آخر میں بھی ایک چوکا لگا دیتا۔سائینسی اصطلاحیں ڈاکٹر صاحب کا پیغام سائینس میگزین کے شمارہ اول میں صفحہ اول پر شائع ہوا۔سرورق ان کی رنگین تصویر سے مزین تھا۔شاہد محمود نے ان سے لندن میں ایک انٹرویو لیا تھا جس کا ایک جملہ مجھے نہیں