مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 123
(۱۲۳) تحقیق کے وسائل فراہم کرنے کیلئے کرتے ہیں۔ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ پسماندہ ممالک میں نہ جانے کتنے عبد السلام پیدا ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔اور اسی ضمن میں پسماندہ ممالک کے سائینسدان بھائیوں کیلئے انہوں نے اٹلی میں ایک بین الاقوامی مرکز قائم کیا ہے۔پچھلے ہیں سال سے وہ اس مرکز کو بڑی خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں۔جس سے ہزاروں سائینسدانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔یہ مرکز بھی عبد السلام کے زرخیز ذہن کی اعلیٰ تحقیق ہے۔اس مرکز نے فی الحقیقت پسماندہ ممالک میں ایک سائینسی انقلاب کی بنیاد ڈال دی ہے۔عبد السلام ایک فرد کا نام نھیں ایک تحریک کا نام هے۔یہ تحریک کے علم و دانش کی عمل و جفاکشی کی اور اپنے تهذیبی ورثه میں جا ئز فخرکی۔یه تحریک هے دنیا سے غربت و جھالت مٹانے کی۔اور طاقت ور ممالک کے ظلم و استحصال کے خلاف جھاد کی۔وہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مستقل باور کراتے ہیں کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بڑی عیاری سے پسماندہ ممالک خصوصاً عالم اسلام کا خون چوس رہے ہیں۔ان ترقی یافتہ ممالک کا معاشی و سیاسی استحصال ہے۔ترقی یافتہ ممالک نے کبھی بھی دل سے نہ چاہا کہ دنیا سے غربت و افلاس و معاشی و علمی نا ہمواری دور ہو۔وہ اس بات کا اظہار انتہائی پر درد الفاظ میں کرتے ہیں کہ پسماندہ دنیا آج جس بحران سے دو چار ہے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔حتی کہ نو آبادیاتی دور میں بھی نہیں جب تیسری دنیا کے خام مال پر ترقی یافتہ ممالک کو کامل اختیار حاصل تھا۔اس دور میں پسماندہ دنیا سے صرف خام مال برآمد ہوتا تھا اور آج خام مال کے ساتھ بہترین دماغ بھی۔وہ اس بات کی مستقل تبلیغ کرتے ہیں کہ عالم اسلام کی فلاح خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور اپنے گم شدہ ورثہ کے حاصل کر لینے میں ہے۔ان کے نزدیک یہ گم گشتہ ورثہ سائینس ہے۔وہ مسلمانوں کو بار بار ان کی تاریخ یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح ان کے آباؤ و اجداد بلا شرکت غیرے چار سو سال تک دنیائے علم و دانش کے امام رہے، اور سائینس کے میدان میں کا رہائے نمایاں