مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 111 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 111

(11) بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ ان تمام والنٹیر ز کو آپ کی جماعت اتنے بڑے کام کیلئے بہت معاوضہ دیتی ہوگی جب انہیں بتایا گیا کہ اس سارے کام کو رضا کارانہ طور پر کیا جاتا ہے تو وہ بے حد حیران ہوئے۔وہ لنگر خانے کے پاس کھڑے تھے ان کا تعارف کچن کے کارکنان سے کرایا گیا۔احمد سلام کچن میں بڑے بڑے دیگچے مانجھنے میں مصروف تھا جب اسکا تعارف معزز مہمان سے کرایا گیا تو وہ بہت حیران ہوئے کہ اتنے عظیم انسان کا بیٹا کچن میں برتن مانجھ رہا ہے اور اس پر فخر محسوس کرتا ہے کہ اسے دین کی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔مذہب اسلام سے ڈاکٹر صاحب کو کس قدر عشق تھا؟ اس کا ثبوت مندرجہ ذیل واقعہ سے ملتا ہے کئی سال ہوئے سعودی حکومت کے تعاون سے حج کے بارہ میں ایک فلم ریلیز ہوئی تھی جس میں ارکان حج کے علاوہ مقدس مقامات کی زیارت بھی کرائی گئی تھی خاکسار نے اس فلم کومشن ہاؤس میں دکھانے کا انتظام کیا اور ان کو بھی دیکھنے کی دعوت دی۔انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ میرا ارادہ عمرہ کرنے کا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ فلم دیکھنے سے جو لطف مجھے خود ان مقامات پر حاضر ہونے سے نصیب ہو گا کہیں اس میں کمی نہ آجائے۔خوش الحان قاریوں کی تلاوت کے بے شمار کیسٹ وہ خود منگواتے رہتے تھے اور انہیں بڑی عقیدت سے سنا کرتے تھے اور اکثر قاریوں کے بارہ میں خاکسار کو بتایا کرتے تھے کہ فلاں قاری کی آواز بہت مسحور کن ہے تو فلاں قاری کی قرات اور الفاظ کی ادائیگی بہت اعلیٰ ہے۔قاری عبد الباسط سے بے حد متاثر تھے اور ان کی تلاوت میں پورا قرآن کریم بطور خاص مصر سے منگوایا تھا اور اسے سنا کرتے تھے اور کئی مرتبہ مکرم چوہدری صاحب (مرحوم ) کو بھی سنایا کرتے تھے۔ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا ایک اعلیٰ وصف یہ تھا کہ خط کا جواب ضرور دیتے تھے۔اکثر اپنے ہاتھ سے اور کبھی کبھی اپنے سکرٹری سے ٹائپ کروا کر اپنے دستخطوں سے جواب بھجواتے تھے۔طبیعت تکلف سے بلکل آزاد تھی۔چنانچہ اکثر جو بھی پرزہ سامنے آجاتا اس پر خط لکھ دیا کرتے تھے۔خاکسار کو بھی تین چار خطوط محض کاغذ کے پرزوں پر ارسال کئے۔مقصد جواب دینا ہوتا تھا نہ کہ پیڈ اور اعلیٰ کا غذ کے