مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 106
(۱۰۶) لگا رہے گا دوسرے جماعت کے افراد ان کی ذات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔چنانچہ ان کے والد صاحب روزانہ مشن ہاؤس میں تشریف لانے لگے اور اکثر میرے دفتر میں میرے ساتھ بیٹھ کر علمی و تربیتی امور پر گفتگو ہوتی انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک دفعہ ان کے والد صاحب نے مجھے کہا کہ دعا کرو سلام کو نوبل پرائز مل جائے۔میں نے عرض کیا کہ آپ خود بزرگ ہیں آپ بھی دعا کریں میں بھی دعا کروں گا نیز چند اور بزرگوں کو بھی کہوں گا۔کچھ عرصہ کے بعد میں نے ایک رات خواب میں ایک شخص کو دیکھا جو کہہ رہا تھا کہ ڈاکٹر سلام کو نوبل پرائز ضرور ملے گا لیکن ابھی ان کی عمر چھوٹی ہے جبکہ بڑی عمر کے سائینس دانوں کی قطار لگی ہوئی ہے پہلے انہیں یہ پرائز دیا جائے گا اور پھر باری آنے پر ان کو بھی یہ انعام ضرور ملے گا۔میں نے اگلے روز یہ خواب چوہدری صاحب کو سنایا دوسرے روز مکرم ڈاکٹر صاحب مسجد تشریف لائے تو مجھ سے خواب سننے کی خواہش کا اظہار کیا میں نے انہیں خواب سنائی تو فرمایا: عجیب بات ھے ابھی چند روز ھوئے بھی بات مجھے ایک نوبل پرائز کمیٹی کے قریبی شخص نے بھی بتلائی ھے مکرم ڈاکٹر صاحب جمعہ کے روز اول وقت مسجد میں تشریف لاتے اور عموماً پہلی صف میں امام کے عین پیچھے بیٹھا کرتے تھے۔گرمیوں میں بھی اوور کوٹ اور گرم ٹوپی زیب فرماتے تھے۔خاکسار جب خطبہ دیتا تو دوران خطبہ وہ اپنی نوٹ بک نکال کر اس میں کچھ درج کرتے رہتے تھے۔ایک دن میں بطور مزاح ان سے پوچھا ڈاکٹر صاحب آپ کو میرا خطبہ بہت پسند آتا ہے کیونکہ آپ اس کے نوٹس لیتے رہتے ہیں۔کھلکھلا کر ہنس پڑے اور فرمایا بات یه هے که میرے دماغ میں وقتاً فوقتاً بجلی کی تیز روشنی کی طرح بعض سائینسی نکات آتے ہیں میں انھیں بر وقت نوٹ کر لیتا ھوں بعد میں بھی نکات میری تحقیقات کی بنیاد ثابت ھوتے ھیں اگر