مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 96
hundred years ago۔(Chap 5, page 71) (47) فزکس میں جو آپ نے جان جوکھوں والا زریں کا رنامہ انجام دیا۔وہ آئن سٹائن کے کام سے کچھ کم نہ تھا۔اس جرمن سائینس دان نے اپنی متاع عزیز کے آخری تھیں سال اس مشکل کام میں صرف کئے کہ وہ کسی طرح کائینات کی چار بنیادی قوتوں میں سے دو (کشش ثقل اور برق مقناطیس) کو متحد کر سکے مگر اس کوشش میں اسکو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا۔تاہم یہ کام عبد السلام نے کر دکھایا ( یعنی کمزور قوت کو برق مقناطیس سے متحد کر دیا) صرف یہ ایک سائینسی کا رنامہ آپ کو نیوٹن۔میکس ویل۔فیراڈے۔اور آئن سٹائین جیسے عظیم المرتبت یونیفا نیرز کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیتا ہے۔یہ سوال کہ آپ پاکستان جیسے غریب اور پس ماندہ ملک نیز پنجاب کے افتادہ علاقہ کے غیر علمی ماحول میں مکین ہونے کے باوجود بھی اتنے بڑے سائینس دان کیسے بن گئے؟ شاید یہ آپ کے والد ماجد کی تضرعانہ دعاؤں کا نتیجہ تھا۔دور ممکن ہے آپ کے والد نے گھر میں جو علمی فضا پیدا کی تھی اس سے آپ کے ذہن کو جلا ملی ہو۔شاید قدرت نے آپ میں کچھ وہی خوبیاں ودیعت کیں تھیں جیسے زبر دست قوت ارادی۔شاید آپ ایک go-getter انسان تھے طبیعت میں جوش و خروش اور آہنی عزم۔شاید آپ ایک visionary تھے جس کے ذہن کے افق کی وسعت فلک تک تھی۔شاید خدا نے آپ کو غیر مرئی قوتوں سے نوازا تھا جیسے آپکے ذہن کی دھار چھری کی طرح تیز بھی شاید نظم ونسق کی عادت۔وقت کی پابندی نیز تحریر کی بے پایاں استعداد نے آپ کو عظیم بنا دیا۔شاید آپ کی یہ پر سحر شخصیت تھی۔دھیمی مگر پر کشش آواز۔ذہانت سے بھرا چہرہ ارتکاز کی قوت اس قدر کہ انسان حیرت کا مجسمہ بن جائے۔شاید اسکی وجہ یہ تھی کہ آپ مطالعہ کے حد درجہ رسیا تھے اور علم و حکمت جذب کرنے کی میں آپ میں غیر معمولی اہلیت تھی کہ آپ کے مضامین علم و حکمت کے موتیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔شاید ان تمام مذکورہ خوبیوں کا مرقعہ ہونے کی بناء پر آپ افضل اور اکمل سائینسدان بن گئے، کچھ بھی ہو آپ سائینس کے چمن کے دیدہ در باغبان تھے۔