مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 92 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 92

(۹۲) ہم تقریباً پینتالیس منٹ تک گفتگو کرتے رہے۔دوران گفتگو آپ نے مجھے وہ والا مشہور واقعہ بھی سنایا کہ کس طرح آپ نے جنرل ضیاء الحق صاحب سے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی بلڈنگ میں لفظ خاتم العین کے معنی پر گفتگو کی تھی۔اور انہیں مسکت جواب دے کر شش و پنج میں ڈال دیا تھا بلکہ جنرل صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ میں آپ کو خود سے بہتر مسلمان سمجھتا ہوں۔( اس واقعہ کی پوری تفصیل اس کتاب میں درج ہے)۔میں آپ کی باتیں پوری توجہ اور دلچسپی سے طفل مکتب بن کر سنتا رہا۔میں نے محسوس کیا کہ آپ انسان کا ظرف اور اسکی پیمائش چند سیکنڈوں میں کر لینے کے ماہر تھے۔پنجابی اور انگلش دونوں زبانوں میں گفتگو کرتے رہے میرا بیٹا ذیشان بھی ساتھ تھا میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اس کیلئے دعا فرمائیں کہ مولیٰ کریم اسے بھی آپ کے نقش قدم پر چلاتے ہوئے اچھا انسان بنائے تو آپ نے پیار سے اسے گود میں اٹھالیا اور بوسہ دیا۔یہاں سے آپ نے نیو یارک کے لئے فلائٹ لینی تھی۔تو میں بھی آپ کے ہمراہ ائر پورٹ کی طرف روانہ ہو گیا وہاں اور بھی پاکستانی حضرات آئے ہوئے تھے۔میں نے چند تصاویر اتاریں۔ائر پورٹ پر مقامی اخبار دیکھا تو اسکی شہ سرخی آپ کے لیکچر کے متعلق تھی۔فلائیٹ کا وقت ہو رہا تھا اس لئے میں نے دوبارہ آپ سے معانقہ کا شرف حاصل کیا اور پھر ہم الوداع کہہ کے ملوا کی کی طرف روانہ ہو گئے۔دل خوشی سے بلیوں اچھل رہا تھا کہ ایک بار پھر دنیائے سائینس کے مھر درخشان ،مسلمانوں کے نیوٹن سے ملاقات کا موقعہ نصیب ہوا۔میں نے آپ کو شگفتہ مزاج اور ظریف الطبع پایا۔مجھے محسوس ہوا کہ قدرت نے آپ کو معاملہ نہی اور خطابت کا جو ہر بھی عطا کیا تھا۔چنانچہ اس یادگار ملاقات کا دل و ذہن پر اثر بہت خوشگوار رہا۔میری خط و کتابت آپ سے برابر جاری رہی۔جب ۱۹۸۹ء میں راقم التحریر نے آپ کا مضمون انگریزی میں ترجمہ کیا جو کہ فی الحقیقت خود نوشت سوانح عمری ہے۔اور جو پہلی بار گونمنٹ کالج لاہور کے رسالہ راوی میں شائع ہوا تھا۔تو آپ نے میری حقیر کوشش کو بہت سراہا بلکہ اس ترجمہ کو آئی سی ٹی پی کی سکرٹری سے کمپیوٹر پر ٹائپ کروا کے مجھے واپس کھوایا، اور اپنے مریضہ اپریل ۱۹۹۰ ء میں ارشاد فرمایا: