مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 43
(۳) ڈاکٹر عزیز و رحمن لاس اینجلز۔امریکہ تعارف میرے ابی کی محترمه عزیزه رحمن ڈاکٹر عبد السلام ( مرحوم ) کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں۔آپ نے بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کیا۔آپ اپنے شوہر ڈاکٹر حمید الرحمن ( آرتھو پیڈک سرجن ) اور چار بچوں کے ساتھ لاس اینجلز میں پچھلے بیس سال سے مقیم ہیں۔شنید ہے کہ آپ جب لندن سکول میں طالبہ تھیں تو آپنے اپنے ابی کی نئی تھیوری کا ایک امتحان میں ذکر کیا۔ٹیچر کو سمجھ نہ آئی اور آپ کو امتحان میں فیل کر دیا اور سرزنش کی کہ تمہارے باپ کو ماڈرن فزکس کا کچھ بھی علم نہیں ہے۔پھر یہ بھی ہوا کہ جب آپ کے والد محترم کو نوبل انعام ملا تو دل میں اس خواہش نے جنم لیا کہ اب تو ہم نئی کا رضرور خریدلیں گے مگر ایسا اسلئے نہ ہو سکا کہ ان کے ابی نے تمام انعامی رقم فوراً طلباء کے وظیفوں کیلئے مختص کر دی۔درج ذیل مضمون اس لئے دلچسپ اور اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک قابل بیٹی کے اپنے قابل اور سرفراز ہو نیوالے عظیم المرتبت باپ کے بارہ میں دلی جذبات کا آئینہ ہے۔بیٹی سے زیادہ اور کون اتنا قریب ہو سکتا ہے۔مضمون کا ایک ایک لفظ ان کی اپنے مشفق باپ سے اتھاہ محبت کا اظہار اور انکی عظمت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ہے۔ایک سوال جو مجھ سے بار بار پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ تمہارے والد واقعتا کیسے تھے؟ کسی بچے کیلئے ایسے مشکل سوال کا جواب اسکے والد کے بارہ میں دینا اتنا سہل نہیں۔مگر میرے نزدیک یہ سوال میرے لئے۔میری بہنوں اور بھائی (احمد سلام ) کیلئے خاص طور پر مشکل ہے میرے والد ڈاکٹر عبد السلام واقعتاً ایک منفرد انسان تھے جن کے مقدر میں بانی جماعت احمدیہ کی ایک پیشگوئی کا پورا ہونا مقصود تھا آپ۔: