مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 346
(۳۴۶) شیر افضل جعفری ۱۹۷۹ء و جہادا چن کے عبد السلام اوپرا فرزند جھنگ ہے سلطان ہاتھی وان کا نوبل ملنگ ہے لیتا ہے گنگنا کے ریاضی کو بانہہ میں سائینس اس کتاب دلارے کی منگ ہے ڈرے کے بھوم راگ کی سولہ سنگارتان تارے کی چندر کونس کا سنگیت انگ ہے ی شخص کیمیا کا ہے ابدال خوش خیال فزکس کی فرات کا صادق نہنگ ہے خمرا ہے یہ تو حضرت با ہو ا کے دیس کا اس کے سرود وسوز پہ اللہ کا رنگ ہے کرتا ہے رام گردش دوراں کو فکر سے چودھار سے اسکی سوچ کلائی کی ونگ ہے کنکو اباز ہے یہ خدا کی بسنت ہے اس کی نگاہ دور ہے چندا پتنگ ہے لکھ بخش کے طفیل ہیں یہ گہما گہمیاں جلسہ نہیں ہے یہ خی سرور کا سنگ ہے اس کی خموشیوں میں غزلخواں مذاکرے اور اسکی بات بات میں نیرنگ چنگ ہے ڈالے ہوئے ہیں غریباں دانتوں میں انگلیاں اسکے جمال ذہن پہ یوروپ بہ چنگ ہے یه راز دان آتش و آب و هواگل دانش وران دیس کے دل کی امنگ گاتا ہے تجزئے کے نشے میں ازل غزل اسکے لئے وضو کی تری جل ترنگ ہے اللہ رے سپوت محمد حسین کا کردار کے چنار کی رنگیں پھنگ ہے اے پاک سرز میں تیرے مست چنہاں کی خیر اس کے جنوں یہ عقل ارسطو بھی دنگ ہے ہے + یہ جھنگ کے تین اولیاء کرام ہیں۔یہ نظم ۲۴ دسمبر ۱۹۷۹ کی شام کو گورنمنٹ کالج جھنگ کی ایک تقریب میں جعفری صاحب نے پڑہی تو ڈاکٹر صاحب نے ان کو ایک ہزار روپیہ بطور نذرانہ پیش کیا تھا۔