مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 310
(۳۱۰) ایک ہندوستانی میاں بیوی جو زیمبیا سے ٹیسٹ موسم گرما میں ٹریننگ کیلئے آئے تھے۔ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔وہاں قیام کے دوران یہ خاتون حاملہ ہو گئیں، اس سے پہلے اس کے کئی بچے حمل کے دوران ضائع ہو چکے تھے۔اطالین ڈاکٹر ز نے اس خاتون کا علاج کیا مگر اس کیلئے اور وقت درکار تھا۔اس دوران اس سائینسدان کا وظیفہ ختم ہو چکا تھا اور وہ علاج کیلئے وہاں مزید قیام کرنا چاہتے تھے۔ڈاکٹر سلام کو جب اس چیز کا علم ہوا تو انہوں نے ان کی مدد پر ٹھان لی۔اس وقت مزید وظیفہ کے لئے سولر انرجی کی فیلڈ میں ریسرچ کیلئے رقم موجود تھی ڈاکٹر صاحب نے اس سائینسدان سے کہا کہ وہ اپنی فیلڈ سولر انرجی میں تبدیل کر لے۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ان کے مزید ایک سال کے قیام کا انتظام ہو گیا اس دوران اللہ نے ان کو ایک جاذب نظر بیٹے سے نوازا۔دونوں میاں بیوی ڈاکٹر صاحب کے ممنون احسان کہ ان کو بیٹا بھی مل گیا اور خاوند کو پیسے والی اچھی سائینس کی فیلڈ بھی۔اسی طرح ایک اور سائینسدان سینٹر میں موقعہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے دن میں ہیں ہیں گھنٹے کام کرتا تھا۔اس وجہ سے ان کی صحت اچانک خراب ہوگئی۔اس نے ڈاکٹر سلام سے ملاقات کی اور ان کو اپنی دینی حالت سے آگاہ کیا کہ وہ کس قدر شدید تناؤ کا شکار ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس کو ایک ہفتہ کی چھٹی دے دی اور ساتھ میں دوسو امریکن ڈالر بھی دئے کہ جاؤ آسٹریا کے پہاڑوں میں جا کر وقت گزارو اور ری لیکس ہو جاؤ۔اس نے ایسا ہی کیا اور صحت مند ہو کر واپس آکے کام دوبارہ تحقیق کا کام شروع کر دیا۔ڈاکٹر منیر احمد خان، سابق چئیر مین اٹامک انرجی کمیشن پاکستان۔نے ڈاکٹر سلام کی پاکستان کیلئے سائینسی خدمات کا ذکر تے ہوئے کہا: ڈاکٹر سلام صدر پاکستان کے ۱۴ سال تک سائینسی مشیر رہے نیز ۱۹۵۹ میں سائینفک کمیشن آف پاکستان کے رکن کی حیثیت سے سائینسی تعلیم کا ڈھانچہ استوار کیا۔اس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان اٹامک