مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 291
(۲۹۱) ترتیب محمد زکریا ورک حکایات سلام۔۔۔۔۔۔۔فیض میموریل لیکچر میں ڈاکٹر سلام نے فرمایا: یوروپ میں میرے دوستوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ میں لا ہور فیض میموریل لیکچر دینے جارہا ہوں تو وہ حیران ہوئے۔اس حیرانگی کی کئی ایک وجوہات تھیں۔فیض ایک شاعر تھے اور میں سائینسدان۔وہ خوبصورتی پسند کرتے تھے جبکہ میں ایٹم کے دنیا میں رہتا ہوں ان کو دھوم دھام اور نمود نمائش پسند تھی جبکہ میں خشک مزاج مگر مخلص انسان جو نماز پانچ وقت ادا کرتا ہے۔وہ سوشلزم کا پرچار کرتے تھے۔جبکہ میں اسلام کا محافظ، وہ حکمرانوں کے سامنے خود کو مظلوم محسوس کرتے تھے جبکہ میں تعاون پسند کرتا ہوں اور کئی کام مختلف حکومتوں سے کروارہا ہوں۔سرسید ایک تعلیمی مصلح: جب ہمارے عظیم رہنما سرسید احمد خاں نے علی گڑھ تحریک کا آغاز کیا تو ان کو ہر قسم کی مخالفت کا سامنا کر پڑا، ان کو مرتد کا خطاب دیا گیا نیز ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ایک بار سرسید نے کہا: تم مجھے مرتد کہتے ہو یا جس سے بھی تمہیں خوشی ہوتی ہے لیکن خدا کے واسطے مجھے مسلمان بچوں کی تعلیم سے ان کا مستقبل تو بنانے دو۔بلکل جس طرح تم ایک غیر مسلم معمار کو مسجد بنانے دیتے ہو۔ان کو اتنی تکالیف کا کیوں سامنا کرنا پڑا؟ محض اس لئے کہ انہوں نے کہا تھا کہ قرآن مجید ہمارے دائیں ہاتھ میں ہو اور سائینس ہمارے بائیں ہاتھ میں، اور کلمہ لا الہ الا اللہ ہمارے ماتھے پر لکھا ہو۔ان کے مخالفین کی پر شدت مخالفت کی بناء پر ان کی تحریک نے زیادہ ترقی نہ کی اور ماڈرن ایجوکیشن بھارت کے مسلمانوں میں رائج نہ ہوئی بعینہ ہماری قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ ہم تعصب اور تنگ نظری کو دور نہ کریں۔اور ایسی معاشرے کی بنیا د رکھیں جس میں اخوت اور رواداری کا چرچا