مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 270 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 270

(۲۷۰) ڈاکٹر عبد السلام کی زمین شکن تھیوری ان کے اپنے الفاظ میں کہے ابھی بیس بائیس سال پہلے تک طبیعات کے عالموں کو یقین تھا کہ دنیا میں چار بنیادی تو انا ئیاں ہیں انہیں نقلی توانائی (یعنی گریوی ٹیشن)، برق مقناطیسی توانائی ، اور دو طرح کی نیوکلیائی توانائی یعنی خفیف اور شدید (ویک اور سٹرانگ نیو کلئر فورسز ( سے تعبیر کیا جاتا رہا۔یہ سب ہی جانتے ہیں کہ یہ چاروں تو انائیاں ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتی ہیں مثلاً نقلی توانائی برق مقناطیس میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کی ایک مثال پانی سے بنے والی بجلی ہے۔شدید نیوکلیائی توانائی برق مقناطیس میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کی مثال سورج کے قلب سے نکلی ہوئی برق مقناطیسی شعاعیں ہیں۔تقریباً بیس سال ہوئے جب میں نے اور میرے ساتھیوں نے یہ رائے بیان کی کہ خفیف نیو کلیائی اور برق مقناطیس قوتوں کی ماہیت ایک ہی ہے۔اسکا مطلب صرف یہی نہیں تھا کہ یہ دونوں قو تیں ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔بلکہ بات تو اس سے آگے کی تھی۔ہماری رائے یہ تھی کہ ان دونوں قوتوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ہمارا خیال تھا کہ اگر تجربہ گاہ میں مناسب حالات پیدا کئے جائیں تو ان کی وحدانیت جو عام طور پر پوشیدہ رہتی ہے، وہ عیاں کی جاسکتی ہے۔ہمارے نظریہ کے صحیح ہونے کا پہلا اشارہ ۱۹۷۳ء میں ملا جب جیلیوا کی عظیم یوروپین نیوکلئیر ریسرچ لیبارٹری سرن میں اس نظریہ کی بنیادی کڑی یعنی نیوٹرل کرنٹ کے وجود کی شہادت تجربات سے ملی اس کے بعد ۱۹۷۸ء میں امریکہ میں سٹین فورڈ لیٹیئر ایکسیل لیٹر پر کئے گئے تجربات نے نہ صرف ہمارے نظریہ کی صداقت کا حتمی ثبوت فراہم کر دیا بلکہ اس کے دوسرے اہم اور بنیادی پہلو کی تصدیق بھی کر دی۔ان تجربات سے ہماری یہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی کہ برق مقناطیسی و خفیف نیوکلیائی قوتیں فی الحقیقت ایک ہی ہیں اور یہ کہ ان کے انضباط میں ایک اور چار ہزار کی نسبت ہوتی ہے۔ان باتوں کی