مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 219 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 219

۔(۲۱۹) میں اپنے خرچ پر لے کر آیا ہوں۔وہ پہلی بار یوروپ آئے ہیں اور یہ رقم وہاں خرچ ہوگی۔پھر میں نے وائن برگ سے کہا اگر وہ کچھ رقم مجھے دے سکے تو اس نے کہا تم نے وہ سوٹ دیکھا ہے یعنی Luxedo میں نے یہ کرایہ پر لیا تھا اور تمام رقم ختم ہو گئی ہے تم خوش قسمت ہو کہ تم نے اپنی اچکن پہنی ہوئی ہے۔چنانچہ اس سے بھی کوئی رقم موصول نہ ہوئی۔سوال: ہمارے ملک میں یہ مستقل پرابلم ہے کہ ہم ریسرچ اور انڈسٹری کو باہم ملا کر کیسے کام کریں جو اس وقت ملک میں قائم کی جارہی ہے۔اس بارہ میں اپنی رائے دیں۔جواب: یہ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔مجھے امید ہے کہ لوگ اس سلسلہ میں کامیابی سے ہم کنار ہوں گے۔اگر ہم عہد کر لیں کہ بنیادی کیے کلو ملک کے اندر پیدا ہوں گے اور لوگوں سے کہیں کہ وہ ان کے پروسیس کو خود ایجاد کریں تو وہ لازماً ایسا کر لیں گے۔جب ایسا ہو جائے تو اس کے بعد آپ ایسے پروسیس کا انٹر نیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق موازنہ کریں اس کے بعد ان کو انڈسٹری لگانے کی اجازت دی جائے۔آپ انڈیا کی طرح تہیہ کر لیں کہ ہم نے بے سک کیمیکل کو در آمد نہیں کرنا ہے بلکہ اس کو خود بنانا ہے تو یقین مانیں کہ ایسا ہو جائے گا۔میں آپ کو اپنے چھوٹے بھائی کی مثال دیتا ہوں جب وہ PIDC میں ملازم تھا ، فیصلہ ہوا کہ ۱۹۵۵ میں چین سی لین کی فیکٹری لگائی جائے۔وہ پیجیم سے فیکٹری خرید لائے لیکن ان کے پاس اس کو چلانے کیلئے ایکسپرٹ نہ تھے۔چنانچہ تین افراد نے پروسیس خود دریافت کیا جن میں میرا بھائی بھی شامل تھا باوجودیکہ وہ نا تجربہ کار تھے۔ہوا یہ کہ بننے والا پروڈکٹ سولہ گنا زیادہ مہنگا تھا بہ نسبت اس کے جو ورلڈ مارکیٹ میں بک رہا تھا۔چنانچہ وہ ہمت نہ ہارے کام جاری رکھا اور رفتہ رفتہ قیمت نیچے آگئی۔اگر یہ نہ کیا جاتا تو ہم ملک کے اندر چین سی لین کبھی بھی نہ بنا پاتے۔تو یہ آپ لوگوں کا مسئلہ ہے۔یعنی مسئلہ قابلیت کا نہیں ، ہمارے نوجوان بہت قابل اور ہوشیار ہیں، ایک دفعہ آپ فیصلہ کر لیں تو کام ضرور انجام کو پہنچ جائے گا۔سوال: کیا سائینس کا علم (یا مطالعہ ) انسان کو خدا کے نزدیک لے آتا ہے؟