مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 218 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 218

(۲۱۸) مسلمان کا استقبال کیا ہے۔انعام کی تاریخ میں ۳۸ فی صد انعامات یہودی قوم کے لوگوں کو ملے ہیں۔پتہ چلا ہے کہ اس میں جینے تک کا کوئی حصہ نہیں ہے۔یہ انعام لینے والے یوروپین یہودی اکثر ان میں۔سے روس میں رہتے تھے اور امریکہ ہجرت کر گئے اور اسی گروپ نے انعام لئے۔اس نے اس کے بعد " اس کی بہت ساری سوشو لا جیکل وجوہات پیش کیں یعنی ان کی فیملی ، خاص طور پر ان کی مائیں۔جنہوں نے اپنے بچوں میں یہ بات ذہن نشین کرائی کہ انہوں نے نوبل انعام لے کر ہی چھوڑنا ہے۔اس کے بعد گلا شو نے اپنے والد کی کہانی سنائی۔اس نے بتایا کہ اس کے باپ کی ہفتہ وار تنخواہ آٹھ ڈالر تھی جب وہ روس سے آئے۔اس رقم سے اس نے اپنی فیملی کو پالنا تھا جس میں چار بیٹے تھے، یہودیوں میں ایک حیرت انگیز رواج ہے ان میں ایک سسٹم موجود ہے اگر ایک باپ اپنی بیٹی کیلئے خاوند تلاش کر رہا ہے تو وہ رہائی کے بیٹے کا انتخاب کرتا ہے کیونکہ رہائی علم سے مالا مال ہوتا ہے۔اور امید کی جاتی ہے کہ اسکا بیٹا بھی علم سے مالا مال ہو گا۔مقصد کہنے کا یہ ہے کہ وہ علم والے شخص کی تلاش کرتے ہیں۔وہ میں نے اپنے بارہ میں کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ of۔being so attuned to these sciences اس کے علاوہ میں کہہ بھی کیا سکتا تھا۔میں نے اس صورت حال سے خلاصی پانے کیلئے یہ راہ اختیار کی۔کیا میں یہ کہہ سکتا تھا کہ میں نے اپنے آبا و اجداد کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں سائینس کی شمع ماند پڑ گئی۔this is due to the consequence سوال: آپ کے بین الا قوامی مرکز میں کتنے مسلمان سائینسدان موجود ہیں؟ جواب: بات یہ ہے کہ ایسے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ہر سال دو ہزار آنیوالے لوگوں میں سے ۱۵۰ یا ۲۰۰ کے قریب مسلمان ہوتے ہیں جو مختلف اسلامی ممالک سے آتے ہیں۔ہم ہر سال پچاس وظائف میرے سکول اور کالج کے طلباء جو جھنگ سے ہیں دیتے ہیں۔نوبل انعام کی تقریب کے موقعہ پر میں رقم لینے کیلئے گھومتا رہا۔میں گلا شو کے پاس گیا اور اس سے رقم مانگی کیونکہ میں ایک فاؤنڈیشن قائم کرنا چاہتا تھا۔اس نے کہا تم وہ میرے چار بھائیوں کو دیکھ رہے ہو، ان کے ساتھ ان کے بچے، ان کی بیویاں۔یہ تمام مل کر سترہ بنتے ہیں جو میرے ساتھ آئے ہیں ان سب کو