مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 181
(۱۸۱) غرضیکہ آپ کی تحریروں، کتابوں ، تقریروں، اور دبیز رپورٹوں سے یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ آپ ایک صاحب طرز ادیب تھے۔آپ بنیادی طور پر ایک ایسے بالغ نظر مفکر تھے جس کے فکر و عمل کا محور وحدت تھا۔آپ خدائے واحد کی زندہ ہستی پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔اور کائینات میں کارفرما قوتوں اور انسانیت کی وحدت پر بھی اتنا ہی۔اس لئے یہ ہر گز تعجب کی بات نہ تھی کہ جب بھی انسانیت کے کسی حصہ پر ظلم ہوتا تو آپ مرغ بسمل کی طرح تڑپ اٹھتے تھے۔آپ دل سے شاعر، دماغ سے سائینسدان اور مزاج سے ایک صوفی تھے۔غرضیکہ آپ کی شخصیت علم و عمل کا دل آویز مرقع تھی۔پاک دل، پاک ذات، پاک صفات۔زمانے نے نہ جانے کتنی عظمتوں کو دیکھا ہے اور ابھی نہ جانے اور عظمتوں کو دیکھے گا لیکن ان تمام عظمتوں کا وہ جمگھٹ جو پروفیسر عبد السلام کی شخصیت میں تھا وہ شاید پھر کبھی دوبارہ دیکھنے کو نہ ملے۔لا ریب تیسری دنیا میں سائینس کے فروغ کیلئے آپ کے طاقتور قلم نے مسیحائی کا کام کیا۔حرف آخر قصہ مختصر یہ کہ ڈاکٹر عبد السلام محق، دانشور اور فاضل اجل ہی نہیں خوش فکر اور با ذوق بھی تھے۔ان کی تخلیقات کی خوشبو اکناف عالم میں پھیل چکی ہے۔ان کے مضامین کے مطالعہ سے ان کے ذوق سلیم کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ان کا مشاہدہ دقیق تھا۔اس مقالہ میں لائے گئے ان کے مضامین کے اقتباسات سے ان کی شگفتگی طبع کا اظہار ہوتا ہے۔یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کو اظہار بیان پر ایسی قدرت عطا کی گئی تھی کہ ادق سے ادق مضمون کو بھی وہ اپنے قلم کی جولانی سے قاری کے دل میں اتار دیتے تھے۔ان کی تحریروں میں خاص قسم کا تمکنت اور رچاؤ تھا ایسا کہ یہ فکر کے کئی در بیچے وا کر دیتا تھا۔