مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 172 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 172

(۱۷۲) پر انجمن ، کپاس اور فلور ملز کے انجن ، موٹر کار، سائیکل ، اور سائینسی اہمیت کی چیزیں یعنی دریائے چناب کا پل اور تریموں ہیڈ وغیرہ دکھاتے۔واپس گھر آکر ان کے والد مطالبہ کرتے کہ جو کچھ انہوں نے مشاہدہ کیا ہے اس کو احاطہ تحریر میں لائیں۔یوں ان میں مشاہدہ کی قوت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ تحریر کی صلاحیت بھی نکھرتی ہوگئی۔پھر آپ کے والد ماجد ان کو دلچسپ کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے یا اسلامی تاریخ کے سبق آموز واقعات ، بعد میں وہ سلام سے کہتے کہ اب وہ اپنے الفاظ میں کہانی سنائیں یوں سلام میں بولنے، یاد رکھنے، اور طرز بیان کی قوت پیدا ہو گئی۔ان کے والد ان کو بتاتے کہ تقریر کرتے وقت کس مقام پر ذرا رکنا چاہئے ، اور کس مقام پر بولتے رہنا چاہئے۔یا پھر بعض دفعہ جب وہ کسی کتاب کا مطالعہ کرتے تو ان کے والد ان سے کتاب کا خلاصہ پیش کرنے کو کہتے۔یوں آپ کو مضمون نویسی، خیالات کو بیان کرنے، مناسب الفاظ کے انتخاب پر دسترس حاصل ہوتی گئی۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سلام کے والد کو کہانیاں سنانے کیلئے نئی کتب تلاش کرنا پڑیں کیونکہ اس سے پہلے کی تمام کہانیاں ان کو حفظ ہو چکی تھیں۔اس چیز نے سلام میں کتابیں اور رسالے پڑہنے کی امنگ پیدا کر دی۔ان کے والد ان کی ذہنی تشنگی کو تسکین دینے کیلئے بڑے شوق سے نئی کتابیں اور رسائل لا کر دیتے۔سکول کے زمانہ میں ہی آپ کے والد نے آپ سے کہا کہ وہ مقامی اخبار کے بچوں کے صفحہ کیلئے مضمون لکھ کر بھیجیں۔یوں آپ میں انشاء پردازی کی استعداد نکھرنے لگی۔اور اپنے افکار کو صفحہ قرطاس ر منتقل کرنے کی قابلیت پیدا ہو گئی۔مضامین لکھنے کے لئے سلام نے بڑے لوگوں کے اقوال زریں اور تا ریخی واقعات ازبر کر رکھے تھے۔مارچ ۱۹۳۶ء میں ڈی ہی، جھنگ میں ہونے والی تعلیمی نمائش کے مقابلے میں انہوں نے مضمون نویسی میں پہلا انعام حاصل کیا۔جب آپ انٹر میڈیٹ کالج جھنگ میں داخل ہوئے تو آپ کو کالج لامیر میری کا انچارج بنا دیا گیا۔آپ کے والد نے ایک اور کام یہ کیا کہ جھنگ شہر کے مشہور شاعر شیر افضل جعفری سے گزارش کی کہ وہ سلام کو مضامین لکھنے کی مشق کرائیں تا ان کے مضامین کا معیار اور ان کا طرز تحریر منفرد ہو جائے۔